بند کریں
خواتین مضامینقیادت و سیادتنواب حضرت محل

مزید قیادت و سیادت

پچھلے مضامین -
نواب حضرت محل
اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ (1847ء تا 1856 ء) کی ولی عہدی کا زمانہ تھا کہ امراوٴ نام کی ایک لڑکی اس کے پری خانے میں داخل ہوئی
اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ (1847ء تا 1856 ء) کی ولی عہدی کا زمانہ تھا کہ امراوٴ نام کی ایک لڑکی اس کے پری خانے میں داخل ہوئی۔ اس پری خانے میں رقص وسرور کی تعلیم دی جاتی تھی اور آدابِ محفل سکھائے جاتے تھے۔ امراوٴ نے جلد ہی نواب کی توجہ حاصل کر لی اور دسمبر 1848 میں واجد علی نے اس کو اپنے حرم میں داخل کر لیا۔ اس وقت وہ تخت نشین ہو چکا تھا۔ اس نے امراوٴ کو حضرت محل کا خطاب دیا۔ اس خطاب نے اتنی شہرت پائی کہ لوگ اس کا اصل نام بھول گئے۔ کچھ مدت بعد حضرت محل سے واجد علی شاہ کا ایک بیٹا پیدا ہو اجس کا نام مرزا رمضان علی برجیس قدر رکھا گیا۔
واجد علی شاہ کو ایک رنگین مزاج اور امورِ سلطنت میں عدم دلچسپی رکھنے والا حکمران مشہور کیا گیا لیکن یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ اپنی رعایا میں ہر دلعزیز تھا اور شعر وادب سے گہری دلچسپی رکھتا تھا۔مزاج اس کا بے شک رنگین تھا اور وہ کھیل تماشاں اور رقص وموسیقی کا بھی دلدادہ تھا لیکن انگریزوں نے اس کی عیاشیوں کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے تاکہ اودھ کو انگریزی سلطنت میں شامل کرنے کا جواز پیش کیا جا سکے۔
بہر حال، انگریزوں نے اودھ کے معاملات میں دخل اندازی کرتے ہوئے فروری 1856 میں واجد علی شاہ کو معزول کر کے کلکتہ بھیج دیا اور اس کی قلمرو کو سلطنت برطانیہ میں شامل کر لیا۔ واجد علی شاہ اپنے بہت سے حاشیہ نشینوں اور ملازموں کو اپنے ساتھ کلکتہ لے گیا۔ البتہ کچھ بیگمات اور متعلقین کا قیام لکھنوٴ میں رہا۔ ان میں حضرت محل اور اس کا بیٹا مرزا برجیس قدر بھی شامل تھا۔
مئی 1857 میں میرٹھ سے جنگ آزادی کا آغاز ہوا جسے انگریزوں نے غدر کانام دیا۔ جلد ہی انگریزوں کے خلاف بغاوت کی آگ تیزی سے بھڑک اٹھی اور دور دور تک پھیل گئی۔ لکھنوٴ میں ہندوستانی سپاہیوں کے باغی ہونے کی خبرین پہنچیں تو وہاں بھی ہلچل کا آغاز ہو گیا۔ 1857 میں لکھنوٴ میں مقیم ہندوستانی سپاہیوں نے شہریوں کے ساتھ مل کر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ انگریز چھاوٴنی اور شہر خالی کر کے ریذیڈنسی میں محصور ہو نے پر مجبور ہو گئے۔
ادھر فیض آباد میں بھی ہندوستانی سپاہیوں نے بغاوت کر دی اور جیل خانے کو توڑ کر تحریک آزادی کے ایک نامور مجاہد مولوی احمد اللہ شاہ کو رہا کر الیا۔ ہو بھی لکھنوٴ پہنچ گئے۔ 5جولائی کو نواب شمشیر الدولہ بہادر کی تحریک اور نواب مموجان اور بہت سے دوسرے بااثر امراء کی تائید سے خورد سال مرزا رمضان علی برجیس قدر کو حکومت کے تخت پر بیٹھا دیا گیا اور حضرت محل کو اس کی سرپرست اور مختار کل مقرر کیا گیا۔ حضرت محل زمانے کے سرد گرم دیکھ چکی تھی۔ اس نے شاہانہ زندگی بھی گزاری تھی اور اس کسمپرسی سے بھی دو چار ہو چکی تھی جو نواب واجد علی کی معزولی کے بعد محلات پر گزری تھی۔ اس نے بے مثال ہمت اور حوصلے سے نئی ذمہ داریوں کو سنبھالا اور عنانِ حکومت ہاتھ میں لیتے ہی اودھ کے تعلق داروں اور زمینداروں کے نام یہ فرمان جاری کیا:
” ملک آبائی خدا نے اب ہم کو عطا کیا ،دفع کفارِ فرنگ لازم ہے باہم شریک ہو کر باقی ماندگان کو بھی ٹھکانے لگا دو۔ جو یہ کام کرے گا اس کا نصف علاقہ اس کو معاف ہو گا۔“
اس کے ساتھ مرزا برجیس قدر کے نام کے سکے بھی جاری کرا دئیے گئے۔ملک کے انتظام کے لیے حضرت محل نے ایک انقلابی کونسل قائم کی جس کے اراکین میں نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو بھی شامل تھے ۔ ان میں شرف الدولہ کی حیثیت وزیراعظم کے برابر تھی۔ مہاراجہ بال کش وزیر مالیہ، مموجان صدر عدالت اور راجہ جے لال سنگھ وزیر جنگ تھے۔ مولوی احمد اللہ شاہ حضرت محل کے مشیر خاص کے طور پر انقلابی کونسل کے اجلاسوں میں باقاعدہ شریک ہوتے تھے۔
حضرت محل کا قیام جس عمارت میں تھا اس کا نام چولکھی تھا۔ وہیں انقلابی کونسل کے اجلاس ہوتے تھے۔ حضرت محل خود گھوڑے پر سوار ہوتی اور سپاہیوں کی حوصلہ افزائی کرتی۔ 31 جولائی کو بیلی گاررد پر حملہ مولوی احمد اللہ شاہ کی قیادت میں ہوا۔ حملے کے روز حضرت محل رات بھر انتظامات میں مصروف رہی اور ایک پل بھی نہ سوئی۔ انگریز قلعہ بند ہو کر لر رہے تھے۔ اور انہوں نے سخت حفاظتی انتظامات کر رکھے تھے۔ اس لئے بیلی گاردر پر قبضہ نہ ہو سکا مگر حضرت محل نے اپنی فوج کی ہمت فزائی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
دلی پر انگریزوں کا قبضہ ہو جانے کے بعد جنرل بخت خاں، فیروز شاہ اور نانا راوٴ بھی لکھنوٴ آگئے اور حضرت محل کے ساتھ مل کر انگریزوں سے لڑائی جار ی رکھی۔ اب لکھنوٴ ہی جنگ آزادی کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔
اس وقت انگریزوں کی حالت بہت نازک تھی لیکن دلی کی طرح لکھنوٴ میں بھی بعض غدارانِ وطن نے ان کی اعانت کی اور ریذیڈنسی پر حضرت محل کا قبضہ نہ ہو سکا۔ اسی اثناء میں سر کو لن کیمپ بل بھاری فوج لے کر لکھنوٴ پہنچ گیا۔ حضر ت محل کی فوج نے اس کی زبردست مزاحمت کی۔ لکھنوٴ کے گلی کوچے خونریز معرکوں میں گھر گئے لیکن انگریزی فوج مورچے پر مورچہ فتح کرتے آگے ہی بڑھتی گئی اور حضرت محل کی قیام گاہ چولکھی تک پہنچ گئی۔ یہاں غضب کارن پڑا اور سینکڑوں ہندوستانیوں نے چولکھی کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔قریب تھا کہ چولکھی پر انگریزوں کا قبضہ ہو جاتا لیکن خان علی خان ایک ہزار سرفروشوں کے ساتھ حضرت محل کی مدد کو پہنچ گیا۔ ان بہادوں نے وقتی طور پر انگریزوں کے پیچھے دھکیل دیا لیکن اب بچاوٴ کی کوئی صورت نہ رہی تھی کیونکہ سارے لکھنوٴ پر تو انگریز قابض ہو گئے تھے۔ ناچار حضرت محل چولکھی کا خالی کر کے ترکِ وطن پر مجبور ہو گئیں۔ مولوی احمد اللہ شاہ اس سے پہلے ہی دشمنوں کی صفیں چیرتے ہوئے لکھنوٴ سے نکل چکے تھے۔
14مارچ1857 کو حضرت محل نے لکھنوٴ کی سر زمین کو خیرباد کہا لیکن ہمت نہیں ہاری۔ نئی فوج تیار کرنی شروع کر دی۔ پرانے ساتھی بھی آملے۔ یہاں تک کہ اس کے پاس چھ ہزار مسلح سرفروشوں کا لشکر جمع ہو گیا۔اسی زمانے میں اس کو اطلاع ملی کہ مولوی احمد اللہ شاہ نے شاہجہاں نپور کا محاصرہ کر رکھا ہے اور انہیں مدد کی ضرورت ہے۔حضرت محل فوراََ اپنی فوج لے کر ان کی فوج سے جا ملی لیکن انگریز کا نصیبہ یاور تھا۔ اس کو فتح ہوئی اور حضرت محل نے چوکا گھاٹ میں جاپڑاوٴ ڈالا ۔ وہاں سے آگے بڑھی تو بہرائچ پر لارڈ کلائیو نے مزاحمت کی۔ اس سے خونریر لڑائی کے بعد ہونیپال میں داخل ہوگئی جس کی سرحد قریب ہی تھی۔ مہاراجہ نیپال نے حضرت محل اور اس کے بیٹے نرجیس قدر کو پناہ دے دی لیکن اس کے باقی تمام ساتھیوں کو یاتوگرفتار کر ا دیا یا اپنے ملک سے نکال دیا۔ ان میں نواب ممو خان بھی شامل تھے۔انگریزوں نے انہیں گرفتار کر کے پہلے پھانسی کی سزائی سنائی مگر بعد میں کالے پانی بھیج دیا۔ انہوں نے وہیں سفر آخرت اختیار کیا۔
حضرت محل اب نیپال کے پہاڑی علاقے میں بالا استقلال مقیم ہوگئی۔ انگریزوں نے بہت کوشش کی کہ وہ ہندوستان واپس آجائے لیکن وہ رضا مند نہ ہوئی کہا جاتا ہے کہ انگریزوں نے اس کویہ پیغام بھیجا کہ اگر وہ اور برجیس قدر ہندوستان واپس آجائیں تو لکھنوٴ یا فیض آباد جہاں وہ چاہیں ان کے رہنے کی اجازت ہو گئی اور معقول وظیفے کے علاوہ احترامِ شاہانہ کابھی خیال رکھا جائے گا لیکن حضرت محل نے یہ تجویز پائے حقارت سے ٹھکرا دی۔ نہ خود آئی اور نہ برجیس کو جانے دیا۔
عام طور پر مشہور ہے کہ حضر ت محل نے نیپال میں ہی وفات پائی اور وہیں دفن ہوئی ۔ اس کے انتقال کے بعد برجیس قدر کلکتہ چلا گیا۔ وہیں ایک دعوت میں کسی نے اسے زہر دے دیا اور وہ اپنے کمسن بیٹے اور بیوی کے ہمراہ خالق حقیقی سے جا ملا۔
ایک اور روایت یہ بھی مشہور ہے کہ حضرت محل کسی وقت نہایت راز داری سے نیپال سے نکلی ار پر صعوبت سفر طے کر کے عراق پہنچ گئی۔ وہاں اس نے کربلا،نجف اشرف اور دوسرے کئی مقدس مقامات کی زیارت کی پھر ایران پہنچی اور وہیں وفات پائی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے