یورپی یونین آزاد کشمیر میں اصل حالات کا جائزہ لینے کے لئے رابطہ دفتر قائم کرے. سردار عتیق

بدھ جنوری 15:49

مظفر آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین03جنوری2007 ) آزاد کشمیر کے وزیراعظم سردار عتیق احمد خان نے یورپین یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں اصل حالات کا جائزہ لینے کے لئے اپنا رابطہ دفتر قائم کرے تاکہ مسئلہ کشمیر پرامن مذاکرات اور یہاں کے عوام کی رائے غیر جانبدارانہ طور پردنیا کے سامنے آسکے چھمب‘ کارگل کے راستے کھولے جائیں موجودہ بس سروس کی تعداد میں اضافہ کیا جائے فوجوں کی تعداد آبادیوں میں سے کم کی جائے آمدورفت کا قدرتی آسان طریقہ آسان بنایا جائے سیلف گورنمنٹ قائم ہوہ بنیادی انسانی حقوق بحال کئے جائیں اور مقدمہ چلائے بغیر قید کئے گئے قیدیوں کو رہا کیا جائے اس کے علاوہ انہوں نے یورپی یونین کے صدر کو آزاد کشمیر آنے کی دعوت بھی دی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یورپی یونین پارلیمنٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین الیمار بروک اور آل پارٹی کشمیر گروپ کے چیئرمین جیمز مین ایلس سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

سردار عتیق نے کہا کہ یورپی یونین کے اعلیٰ سطحی دورکنی وفد کو آزاد کشمیر کا بروقت دورہ پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایملا نکلسن قابل احترام خاتون ہیں ان کی رپورٹ میں چند مثبت اور صحیح باتیں درج ہیں جبکہ کچھ حقائق درست طور پر اس رپورٹ میں شامل نہیں ہیں آزاد کشمیر میں پارلیمانی نظام موجود ہے یہاں کوئی سیاسی قیدی نہیں آزاد کشمیر میں تعلیمی معیار ارد گرد کے علاقوں سے کہیں بہتر ہے جبکہ ایملا نکلسن کی رپورٹ میں یہ حقائق بجا طور پر درست نہیں ہیں وزیراعظم نے بتایا کہ یورپی یونین کے اجلاس جس میں یہ رپورٹ زیر بحث آئے گیی آزاد کشمیر کے وزیراعظم کی سربراہی میں ایک وفد برطانیہ کا دورہ کرے گا جس میں اپوزیشن کے اراکین اور مختلف مکاتب فکر کے ماہرین کو شامل کرکے اپنا موقف واضح کیا جائے گا تاکہ نکلسن رپورٹ پر یورپی یونین کے اراکین کو صحیح صورتحال سے آگاہی ہوسکے اس سلسلہ میں وزیراعظم آزاد کشمیر نے یورپی یونین کے صدر کو آزاد کشمیر کے دورے کی دعوت بھی اس غرض سے دی کہ ان کو اصل حقائق سے قبل از وقت آگاہ کیا جاسکے آزاد کشمیر کے وزیراعظم نے یورپی یونین کے اس وفد کے دورہ کو بروقت قرار دیا اور اراکین کا شکریہ ادا کیا کہ وہ حقائق جاننے کے لئے آزاد کسمیر اور پاکستان بھارت اور مقبوضہ کشمیر کا دورہ کررہے ہیں۔

سردار عتیق نے وفد کو بتایا کہ وہ ب ھارت جاتے ہوئے بھارتی قیادت کو یہ باور کرادیں کہ ان ہوں نے صدر پاکستان کی تجاویز کا خیر مقدم کیا اور ان کو مثبت قرار دیالہذا وہ اس بیان پر قائم رہیں جبکہ ماضی میں اکثر وہا پنے بیان سے منکر ہوجاتے ہیں مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے سلسلہ میں بھارت کو چاہئے کہ ان تجاویز پر عملی طور پر عمل کرے اور فوری طور پر آبادیوں سے فوجیں نکالے تاکہ کشیدگی کم ہو قیدیون کو رہا کیا جائے تاکہ اعتماد سازی کی فضا پیدا ہو۔ تقریب میں وزیر تعمیرات عامہ کرنل(ر) محمد نسیم‘ وزیر جنگلات مرتضیٰ گیلانی‘ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کیپٹن (ر) محمد یوسف‘ معززین شہر اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ عنوان :