ٹیکس دہندگان کو دوہرے ٹیکس کا سامنا ، وزارت خزانہ اور ٹیکس سے متعلق ڈیپارٹمنٹ اپنے اختلافات کو حل کرے‘ میاں رحمان عزیز

پنجاب حکومت گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ہر سال تقریباََ دو ارب کا نقصان کرتی ہے،گاڑیوں کی رجسٹریشن کے نظام میں بہتری لانے کی اشد ضرورت ہے‘ ایف پی سی سی آئی کے ریجنل چیئرمین کی صوبائی وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمن سے گفتگو

جمعرات مئی 20:25

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔26 مئی۔2016ء) وزارت خزانہ اور چاروں صوبوں کے ٹیکس سے متعلق ڈیپارٹمنٹ اپنے اختلافات کو حل کرے،ٹیکس دہندگان کودوہرے ٹیکس کا سامنا ہے، پنجاب حکومت گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ہر سال تقریباََ دو ارب کا نقصان کرتی ہے،گاڑیوں کی رجسٹریشن کے نظام میں بہتری لانے کی اشد ضرورت ہے،تقریباََ 1.6ملین گاڑیوں میں سے صرف 1.28ملین رجسٹرڈ ہیں۔

ان خیالات کا اظہار فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی )ریجنل چیئرمین میاں رحمان عزیز نے صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مجتبیٰ شجاع الرحمن کے ایف پی سی سی آئی ریجنل آفس کے دورہ کے موقع پر ملاقات میں کیا۔انہوں نے مزید کہاکہ صوبے پنجاب کی ریونیو کلیکشن کو کسی ایک منسٹری یا باڈی کے ماتحت کیا جائے،موجودہ صورت حال کے مطابق صوبے کی مجموعی ریونیو کلیکشن مختلف منسٹریز اور باڈیز کے ماتحت فعال کرتی ہے ۔

پنجاب ریونیو اتھارٹی،پنجاب ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن،بورٹ آف ریونیو،محکمہ توانائی،ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کو ایک باڈی یا منسٹری کے ماتحت کیا جائے۔اس موقع پر صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ وہ ایف پی سی سی آئی کی سفارشات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ ٹیکس سسٹم کو آسان بنانا اور ٹیکس کلچر کو فروغ دینا ان کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سسٹم کو کمپوٹرائزڈ کیا گیا ہے اور رجسٹریشن کیلئے ای سٹمپنگ پروجیکٹ بھی شروع کیا جار ہا ہے۔لگژری گھروں پر نئے ٹیکسز لگائے جائے گئے۔زراعت کے شعبہ کیلئے خصوصی بجٹ رکھا گیا ہے۔اس سال پنجاب ریونیو اتھارٹی کا ٹارگٹ 70بلین مقرر کیا گیا ہے۔حکومت ریونیو کو بڑھانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے،پراپرٹی ٹیکس کو بھی چھ اضلاع میں کمپوٹرئزاڈ کیا گیا ہے۔ایف پی سی سی آئی نائب صدر سید محمد عاصم نے کہاکہ حکومت ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سسٹم کو مکمل کمپیوٹرائز کرئے۔ ٹیکس کلچر میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments