کراچی کے 75 تھانوں میں سوفٹ وئیر کی مدد سے ڈیٹا کو کمپوٹرائز کردیا گیا

پولیس حکام نے مجرموں کے ریکارڈ جمع کرنے کے نظام کے سوفٹ وئیر کو اپ گریڈ اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں، جیلوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے لنک کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی سندھ بھر کی جیلوں اور تھانوں میں زیر حراست ملزمان کی معلومات جمع کرکے انھیں لنک کردیا جائے گا

جمعرات فروری 20:41

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 فروری2017ء) کراچی پولیس حکام نے مجرموں کے ریکارڈ جمع کرنے کے نظام (سی آر او) کے سوفٹ وئیر کو اپ گریڈ کرنے اور اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں، جیلوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے لنک کرنے کیلئے سٹیزن پولیس لائڑن کمیٹی (سی پی ایل سی) کے چیف اور سینئر پولیس افسران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔اس نظام کے تحت سندھ بھر کی جیلوں اور تھانوں میں زیر حراست ملزمان کی معلومات جمع کرکے انھیں لنک کردیا جائے گا، جبکہ اس مقصد کیلئے پہلے ہی کراچی کے 75 تھانوں میں ایک سوفٹ وئیر کی مدد سے ڈیٹا کو کمپوٹرائز کردیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ اے ڈی خواجہ کررہے تھے۔

(جاری ہے)

اس اجلاس میں کراچی پولیس کے چیف مشتاق مہر، سی پی ایل سی کے زبیر حبیب اور دیگر سینئر پولیس افسران موجود تھے۔اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ 'اجلاس کے دوران سی آر او کے نظام کی اہمیت جبکہ جیل اور تھانوں میں موجود ملزمان کے فنگر پرنٹس کے ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی'۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ دیگر تھانوں میں بھی سی آر او نظام کے تحت گرفتار ملزمان کا ریکارڈ کمپیوٹرائز کیا جائے گا۔اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ 'بعد ازاں اس نظام میں توسیع کی جائے گی تاکہ صوبے کے تمام تھانوں کو اس سے منسلک کردیا جائی'۔خیال رہے کہ گذشتہ ماہ ہونے والے ایک اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سمارٹ فونز اور ان کے صارفین کا شناختی موڈیول (سم) کی رجسٹریشن کیلئے ایک سوفٹ وئیر بنایا جائے گا تاکہ فون کے چوری ہونے کی صورت میں اسے فوری طور پر بند کیا جاسکے۔

حکام کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس نے تکنیکی مدد کے ذریعے قانون نافذ کرنے والی ایجنسی میں اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، اور اس پالیسی کی تحت کمپیوٹرائز سی آر او اور ملزمان کی معلومات جمع کی جائیں گی۔تاہم حال ہی میں ہونے والے ہونے والے ایک اجلاس کے دوران اعلیٰ پولیس حکام کو بتایا گیا کہ سی آر او کے نظام کو جدید خطوط پر ڈھالنے کیلئے پولیس حکام نادرا کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا کہ فنگر پرنٹس کی جانچ کی ٹیکنالوجی اور جرائم کے ریکارڈ تک رسائی کیلئے وفاقی حکام سے تعاون کیلئے ایک جامع منصوبہ بنایا گیا ہے۔اجلاس میں شریک ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ بنیادی معلومات کے علاوہ مجرموں کا کمپیوٹرائز شناختی کارڈ (سی این آئی سی) نمبر، تصاویر اور فنگر پرنٹس کو بھی ڈیٹا بیس کا حصہ بنایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'چوری شدہ یا چھینے گئے موبائل فونز کو بلاک کرنے کے سوفٹ وئیر کی تکمیل کے بعد جدید خطوط پر سی آر او کا قیام سندھ پولیس کی دوسری اہم کامیابی ہی'۔انھوں نے بتایا کہ 'اس پر عمل درآمد ہو جائے تو اس سے پولیس کے تفتیشی افسران کو ان معلومات تک فوری رسائی مل جائے گی جن کے حصول میں اضافی وقت درکار ہوتا ہے، اس کے علاوہ اس سے پولیس کے روایتی تفتیش کے طریقوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی'۔

متعلقہ عنوان :