ورچوئل کرنسی بٹ کوائن نے پہلی بار تین ہزار ڈالرز کی حد کو عبور کرلیا ،ایک سکے کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی

پیر اگست 18:33

ورچوئل کرنسی بٹ کوائن نے پہلی بار تین ہزار ڈالرز کی حد کو عبور کرلیا ..
لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 اگست2017ء) ورچوئل کرنسی بٹ کوائن نے پہلی بار تین ہزار ڈالرز کی حد کو عبور کرلیا اور اسکے ایک سکے کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ۔اس وقت دنیائے انٹرنیٹ کی اس کرنسی کے ایک یونٹ یا یوں کہہ لیں کہ ایک سکے کی قیمت 3398 ڈالرز( 3 لاکھ 58 ہزار روپے سے زائد) پر پہنچ چکی ہے۔یعنی ایک بٹ کوائن سے ساڑھے سات تولے تک سونا خریدا جاسکتا ہے۔

اس کرنسی میں یہ نمایاں اضافہ اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ سال اسے دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا تھا اور دوسری کرنسی کو بٹ کوائن کیش کا نام دیا گیا۔یہ نئی کرنسی اس وقت 223 ڈالرز میں فروخت کی جارہی ہے جس کی مارکیٹ ویلیو پانچ ارب ڈالرز ہے جبکہ بٹ کوائن کی مارکیٹ ویلیو 55 ارب ڈالرز سے تجاوز کرچکی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت گزشتہ سال مئی میں صرف 443 ڈالرز تھی اور ایک سال میں اتنا اضافہ حیران کن ہے۔

(جاری ہے)

یہ بٹ کوائن کے لیے ایک سنگ میل ہے کیونکہ اسے ڈیجیٹل گولڈ بھی قرار دیا جاتا ہے۔کسی حقیقی کرنسی کے مقابلے میں بٹ کوائنز ہر طرح کے ضابطوں یا حکومتی کنٹرول سے آزاد ہے اور اس کا استعمال بہت آسان ہے۔اس وقت اسے متعدد ممالک جیسے کینیڈا، چین اور امریکا وغیرہ میں استعمال کیا جارہا ہے تاہم دنیا میں انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والا ہر شخص اس کرنسی کو خرید سکتا ہے۔

اس کرنسی کی لین دین کے لیے صارف کا لازمی طور پر بٹ کوائن والٹ اکانٹ ہونا چاہئے جسے بٹ کوائن والٹ اپلیکشن ڈان لوڈ کرکے بنایا جاسکتا ہے۔ والٹ اکانٹس کو پے پال، کریڈٹ کارڈز یا بینک اکانٹس وغیرہ کے ذریعے بٹ کوائنز خریدنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مائیکروسافٹ سمیت انٹرنیٹ پر کام کرنے والی سینکڑوں کمپنیاں بٹ کوائنز کو قبول کرتی ہیں، جن میں سوشل گیمنگ سائٹس جیسے زینگا، بلاگ ہوسٹنگ ویب سائٹس جیسے ورڈ پریس اور آن لائن اسٹورز جیسے ریڈیٹ اور اوور اسٹاک ڈاٹ کام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اس وقت دنیا بھر میں لاکھوں بٹ کوائن گردش کررہے ہیں۔ بٹ کوائن کیش اسی سال یکم اگست کو وجود میں ایا ہے۔ اسے ہارڈ فورک کہتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :