اعتزاز احسن کا اپنی تقریر میں غالب اور افتخار عارف کے اشعار کا استعمال

مرزا اسداللہ خان غالب کی مشہور غزل "درخور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا"کا شعر "بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم ،الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا "اور افتخار عارف کا مشہور شعر "رحمت سید لولاک پر کامل ایماں ، امت سید لولاک سے خوف آتا "

جمعہ نومبر 16:05

اعتزاز احسن کا اپنی تقریر میں غالب اور افتخار عارف کے اشعار کا استعمال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2017ء) سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن کا اپنی تقریر کے دوران غالب اور افتخار عارف کے اشعار کا استعمال ،مرزا اسداللہ خان غالب کی مشہور غزل "درخور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا"کا شعر "بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم ،الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا "اور افتخار عارف کا مشہور شعر "رحمت سید لولاک پر کامل ایماں ، امت سید لولاک سے خوف آتا "۔

(جاری ہے)

جمعہ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی کی صدارت میں ہوا ۔ اجلاس میں انتخابی اصلاحات بل 2017پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن کا اپنی تقریر کے دوران غالب اور افتخار عارف کے اشعار کا استعمال کیا ۔ مرزا اسداللہ خان غالب کی مشہور غزل "درخور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا"کا شعر "بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم ،الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا "اور افتخار عارف کا مشہور شعر "رحمت سید لولاک پر کامل ایماں ، امت سید لولاک سے خوف آتا "۔

متعلقہ عنوان :