مسائل حل ہو نے تک نادرا کے خلاف احتجاجی تحریک جاری رہے گی ،حافظ نعیم الرحمن

امتیازی سلوک بند کیا جائے ،محب وطن لوگوں کو پاکستان مخالف نہ بنایا جائے ،اورنگی ٹائون زونل آفس پر دھر نے سے خطاب �نوری کو بابر مارکیٹ لانڈھی ،23جنوری کو حیدری اور 27جنوری کو حسن اسکوائر پر احتجاجی دھر نا دیا جائے گا

جمعہ جنوری 23:09

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جنوری2018ء) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ نادرا کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک مسائل کے حل ہو نے تک جاری رہے گی ۔جماعت اسلامی نادرا کی جانب سے شہریوں پر ظلم و زیادتیوں اور نا انصافیوں پر خاموش نہیں رہے گی ۔۔نادرا کے خلاف 19جنوری کو بابر مارکیٹ لانڈھی ،23جنوری کو حیدری اور 27جنوری کو حسن اسکوائر پر احتجاجی دھر نا دیا جائے گا ۔

نادرا مشرقی پاکستان سے ہجرت کر کے آنے والوں ،بنگلہ زبان بولنے والے پاکستانیوں اور پختونوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور ناروا سلوک بند کرے ۔محب وطن پاکستانیوں کو پاکستان کا مخالف نہ بنائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نادرا کی نااہلی و ناقص کارکردگی اور شہریوں کو قومی شناختی کارڈ کے حصول میں درپیش پریشانیوں و مشکلات اور بلاجواز روکاوٹوں کے خلا ف نادرا زونل آفس اورنگی ٹائون کے سامنے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

دھرنے سے امیر جماعت اسلامی ضلع غربی عبد الرزاق خان ، نائب امیر ضلع غربی فضل احد حنیف ،سابق ممبر قومی اسمبلی محمد لئیق خان ، سابق رکن سندھ اسمبلی حمید اللہ خان ایڈوکیٹ ،جے آئی یوتھ سندھ کے صدر فرہاد گل ،جے آئی یوتھ ضلع غربی کے صدر انعام الرحمن دیگر نے بھی خطا ب کیا۔ اس موقع پر سکریٹری کراچی عبدا لوہاب ، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ، چیئرمین یوسی 4عبد الصمد و دیگر بھی موجود تھے ۔

دھرنا میں شرکاء نے نادرا انتظامیہ کے خلاف پلے کارڈز اور بینرز بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر درج تھا کہ مشرقی پاکستان سے ہجرت کرنے والے محب وطن پاکستانیوں کے لیے نادرا کا ظالمانہ سلوک نا منظور ، پختونوں کو پاکستان کا شہری سمجھتے ہوئے شناختی کارڈ جاری کیے جائیں ، نکلو گے تو مسئلہ حل ہوگا، کیا ہم پاکستانی نہیں ۔دھرنے میں ماسٹر امین اللہ نے نادرا انتظامیہ کے خلاف منظوم کلام پیش کیا۔

دھرنے میں نادرا کے مرد وخواتین متاثرین سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ دھرنے میں متاثرین کے لیے شکائتی سیل کیمپ بھی قائم کیا گیا تھا جس میںمردو خواتین متاثرین نے بڑی تعدا دمیں اپنی شکایات درج کرائیں ۔ نادرا انتظامیہ کے خلاف دھرنا اورنگی ٹاؤن 5نمبر کے ایک ٹریک پر دیا گیا جبکہ دوسرے ٹریک پر معمول کے مطابق ٹریفک جاری رہا ۔ دھر نا نماز ِ جمعہ کے بعد تقریباً 2بجے شروع ہو ا جو نمازِ مغرب تک جاری رہا ۔

دھرنے میں متاثرین نادرا نے میڈیا کے نمائندوں کو اپنی روداد بتائی، جن میں جعفر،معزور شخص کامران ،غلا م مصطفی، اورنگزیب ،محمد زاہد ،خاتون فیروزی ،تسلیم خاتون، زیب النساء ،محمد سمیع،نورحسن اور دیگر شامل تھے ۔ دھرنے میں شریک شرکاء نے نادرا انتظامیہ کے خلاف شدید غم وغصے کااظہار کیا اور نعرے بھی لگائے۔جن میں یہ نعرے شامل تھے ۔ نعرہ تکبیر اللہ اکبر ، جینا ہوگا مرنا ہوگا دھرنا ہوگا ، نادرا مافیا مردہ آباد ، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج ہم نے ایک بہت بڑی تحریک کا آغاز کیاہے ، سڑکوں پہ نکل کر اس با ت کا اعلان کیا ہے کہ اب اس ظلم کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

نادرا ایک سرکاری ادارہ ہے جس کا کام عوام کے شناختی کارڈ بنانا ہے ۔ لیکن جو کچھ نادرا کے دفاتر میں کیا جارہا ہے وہ عوام پر انتہائی ظلم وزیادتی ہے ، رات سے لائنیں لگائی جاتی ہیں ، یہ ایک کاروبار بنادیا گیا ہے ۔ جب باری آتی ہے تو شناخت پوچھی جاتی ہے ان لوگوں سے جنہوں نے پاکستان کے لیے دو مرتبہ ہجرت کی ، جہاد کیا ، قربانیاں دیں ہیں ، اب اُن سے اُن کی شناخت پوچھتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ عوام کے غضب کو مت للکارو، عوام کو برادریوں اور قوموں میں تقسیم کر کے حکومت کر نے کا سلسلہ بند کرو ۔

انہوں نے کہا کہ مہاجر بھائیوں نے کلمہ کی بنیادد پر ہجرت کی، بہاریوں نے دو دفعہ ہجرت کی ، قبائیلوں نے آزاد کشمیر کو آزادکروا کر دیا ۔ یہاں وہ بنگالی بھی موجود ہیں جنہوں نے بنگالی قوم پرستی کو مسترد کر کے نظریاتی سوچ رکھتے ہوئے پاکستان کا ساتھ دیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں لسانیت اور عصبیت کی بنیاد پر 30سال سے بند گلی کی سیاست کر کے عوام سے ان کے حقوق چھین لیے گئے اور تباہی و بربادی پھیلائی ۔

جنہوں نے بہاری اور مہاجروں کے حقوق کی با ت کی انہوں نے ہی مہاجروں اور بہاریوں کو قتل کیا اور کروایااور ہماری آبادیوں کو تقسیم کردیا۔آپس میں لڑوایا گیا ۔جماعت اسلامی نے ہمیشہ نفرت اور عصبیت کی سیاست کے بجائے اخوت و محبت کی بات کی اور قوم کو ایک کر نے کی جدو جہد کی ۔انہوں نے کہا کہ جماعت سلامی واحد جماعت ہے جس نے کے الیکٹرک کے خلاف تحریک چلائی اور آج نادرا انتظامیہ کے خلاف تحریک کا آغاز کردیا ہے ۔

نادرا کا مسئلہ بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ ہم محض سیاست نہیں کر تے بلکہ عوامی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اس وقت ایم کیوایم کے سترہ ایم این اے ہیں 1987ء سے بلدیہ اور صوبائی اسمبلی کا مینڈیٹ ان کے پاس ہے لیکن آج تک عوام کے مسائل حل نہیں کیے ۔ اورنگی کے عوام ان کو تلاش کرتے ہیں لیکن یہ لوگ اب لندن ،ملائیشیااور دبئی میں ملتے ہیں ۔یہ عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں کرسکے ۔

میں ایم کیو ایم سے پوچھتا ہوں کہ یہاں پر لوگ روز دھکے کھاتے ہیں ، شناختی کارڈ بنوانے کے لیے راشن کارڈ مانگے جارے ہیں اور تم لوگ 1987ء سے حکومتوں میں رہے ہو آج تک اسمبلی میں بہاریوں کے لیے ایک بھی بل کیوں نہیں پیش کیا ۔ عوام اپنے حق کے لیے جھوٹے نعروں اور فریب دینے والوں کو مسترد کر دیں ۔ جماعت اسلامی کی قیادت حقیقی قیادت ہے جس نے یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں اٹھایااور عوام کے مسائل کے حل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے ۔

جماعت اسلامی کے بزرگوں نے گارا مٹی سے ہجرت کرنے والوں کے لیے گھر بنائے ہیں ۔ جماعت اسلامی عوام کی جماعت ہے ۔عبد الرزاق خان نے کہا کہ یہ ملک پاکستان کلمہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور پاکستان کی شناخت لاالہ اللہ ہے ، جوبھی ادارہ کلمہ کے علاوہ کوئی اورشناخت پوچھے گاجماعت اسلامی اس کے خلاف کھڑی ہو گی ، نادرا کے ایس او پی کے علاوہ کوئی اور شناخت یا دستاویزات مانگی گئی تو عوام جماعت اسلامی کے دفاتر آئیں جماعت اسلامی عوام کے شانہ بشانہ ہوگی، عوام خاموش نہیں بیٹھیں گے ملک پر جتنا حق نواز شریف ، زرداری اور بلاول کا ہے اتنا ہی حق پاکستان کے عوام کا ہے ۔

عوام قوم پرستوں کے پیچھے نہ جائیں یہ نسلوں کو تباہ کردیں گے ۔ ہم عوام کے مسائل کے حل کے لیے ہر آئینی اور جمہوری طریقہ اختیار کریں گے ۔ حمید اللہ خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایم کیو ایم نے کراچی کے نوجوانوں کو کوٹہ سسٹم کے خلاف اور کراچی کو حق دلانے کے لیے آواز اٹھائی تو کراچی کے عوام نے اسے ووٹ دیے لیکن جب ایم کیو ایم برسر اقتدار آئی تو کراچی کے باسیوں کے مسائل کے حل کے لیے کوئی آواز نہیں اٹھائی ، بہاری اور پختونوں کے شناختی کارڈ کے مسائل حل نہیں ہورہے ، محمد لئیق خان نے کہا کہ نادرا کی غنڈہ گردی کے خلاف عوام متحد ہوجائیں تو ان شاء اللہ کسی کو یہ جرات نہیں ہوگی کہ عوام کو بلا وجہ تنگ کرے ۔

فرہاد گل نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اس اہم مسئلہ پر جمع ہوکر ثبوت دیا ہے کہ جماعت اسلامی ایک عوامی جماعت ہے جو عوام کے مسائل کے حل کی خاطر ہمیشہ سے تن من دھن قربان کرنے کے لیے کوشاں رہی ہے ، شہر کراچی میں کے الیکٹرک کا مسئلہ ہو یا نادرا کا جماعت اسلامی نے ہمیشہ عوام کی ترجمان بن کر آواز اُٹھائی ہے ۔انعام الرحمن نے کہا کہ نادرا ایک بہت بڑا مافیا بن چکا ہے ، نادرا نے اپنے ایجنٹ مقرر کیے ہوئے ہیں جو عوام سے پیسے لوٹنے میں مصروف ہیں ۔

پاکستان کے لیے دو دفعہ ہجرت کرنے والے مہاجرین کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا جاتا ہے اور طرح طرح کے حیلے بہانے بنا کر تنگ کیا جاتا ہے ، ہم نادرا حکام کو بتانا چاہتے ہیں کہ عوام کو بلاوجہ تنگ کرنا بند کردیں ورنہ متاثرین نادرا اپنا حق حاصل کرنے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔اورنگزیب نے کہا کہ نادرا انتظامیہ نے گزشتہ 3سال سے میرا شناختی کارڈ بلاک کیا ہوا ہے ، میں نے شناختی کارڈ کے لیے اسلام آباد تک رجوع کیا لیکن میرا مسئلہ حل نہیں کیا جس کے باعث آج میں بے روزگا ر ہوں ، مجھے کوئی نوکری دینے کو تیار نہیں ہے ، میرے بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں ۔

میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ میرا شناختی کارڈ بنایا جائے ۔ میں ماہانہ پچاس ہزار روپے کمایا کرتا تھا لیکن نادرا کی انتظامیہ کے باعث آج دس ہزار روپے نہیں کماسکتا، میری جماعت اسلامی سے درخواست ہے کہ میرا مسئلہ حل کرائیں۔ فیروزہ نے بتایا کہ گزشتہ دس سال سے میرا شناختی کارڈ نہیں بنایا جارہا ہے جس کے باعث میرے گھر والے فاقہ کشی پر مجبور ہیں ۔

زیب النساء نے بتایاکہ گزشتہ 3سال سے نادرا کے دفتر چکر لگوائے جارہے ہیں لیکن میرا شناختی کارڈ نہیں بنایا جارہا ۔جعفر نے بتایا کہ 1968میں ایوب خان کے دور میں بہاریوں کو پلاٹ دیے گئے تھے جن کی دستاویزات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود شناختی کارڈ نہیں دیا جارہا ، نادرا انتظامیہ نے بہاری اور پختونوں کو پریشان کرنا شروع کردیا ہے ۔کامران (معذور)نے بتایا کہ سن 2013 سے نادرا دفاتر کے سینکڑوں چکر لگاچکا ہوں لیکن اب تک میرا مسئلہ حل نہیں ہوا ،مجھے پاکستانی ہی تسلیم نہیں کیا جاتا۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments