خیرپور میں پیپلز پارٹی کے نو منتخب عہداروں کے نام کے اعلان ہوتے ہی پیپلز پارٹی میں گروپ بندی کی چکی میں ووٹر وکارکنان پسنے لگے

عہدوں کی بندر بانٹ سے پکنے والے لاوے کی چنگاری کو سٹی جنرل سیکرٹری غلام حسین مغل نے شعلے میں بدل دیا

جمعہ فروری 22:22

خیرپور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 فروری2018ء) خیرپور میں پیپلز پارٹی کے نو منتخب عہداروں کے نام کے اعلان ہوتے ہی پیپلز پارٹی میں گروپ بندی کی چکی میں ووٹر وکارکنان پسنے لگے۔عہدوں کی بندر بانٹ سے پکنے والے لاوے کی چنگاری کو سٹی جنرل سیکرٹری غلام حسین مغل نے شعلے میں بدل دیا ۔سٹی صدر سید علی مدد شاہ کی بہتر عوامی خدمت کی کارکردگی سے حسد کرنے والے سٹی جنرل سیکرٹری غلام حسین مغل کا جان نثار کارکنوں کو ڈانٹ و غیر اخلاقی گفتگوپرووٹروں اور کارکنوں میں مایوسی پھیل گئی۔

عام انتخابات میںپارٹی قیادت غلام حسین مغل سے ووٹ لیں جس نے پارٹی کے نام پر کروڑوں روپے بنائے ہیں ۔غلا جنرل سیکرٹری کے عہدے سے ہٹایا جائے بصورت دیگر ان کے خلاف تحریک اور وائٹ پیپر شایر کریں گے کارکنوں کا پارٹی قیادت سے مطالبہ۔

(جاری ہے)

سٹی جنرل سیکرٹری پیپلز پارٹی کے دس سالہ دور میں کروڑ پتی اور اپنی اولاد کو اعلیٰ افسران بنانے میں کامیاب کارکنوں کی وجہ سے ہوا ہے۔

پی پی کارکنوں کا اظہار۔قومی احتساب بیورو۔انٹی کرپشن و حساس ادارے غلام حسین مغل کی ملکیت بنانے کے ذرائع کی تحقیقات کرے۔تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے خیرپور میں انسان دوست اسپورٹس مینوں کے ہردلعزیزنوجوان قیادت کے سربراہ سید علی مدد شاہ کو سٹی کا صدر منتخب کرتے ہی پی پی کارکنوں میں خوشی کی لہر اور ہر مقام پر ان کی تعریف کرنے پر پارٹی کے نام پر مبینہ لوٹ مار اور اعلیٰ منصب والی نوکریاں اپنے بیٹے ۔

بہو اور بیٹیوں کو دلوانے والانو منتضب سٹیء جنرل سکرٹری غلام حسین مغل نیرکن قومی اسمبلی و پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر سیدہ نفیسہ شاہ جیلانی خیرپور کی مشہور لیڈی قانوندان رعنا شاہ کے انتقال پر تعزیت کے موقع پر اعظم کالونی سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے سرگرم کارکنوں شمع الدین شیخ سمیت دیگر کی پی پی سٹی صدر سید علی مدد شاہ کے ساتھ فوٹو نکلوانے پر برہم ہوگئے اور انہیں سرکاری نوکری علی مدد شاہ سے لینے کے ساتھ غیر اخلاقی گفتگو پر پیپلز پارٹی مل کالونی۔

لقمان۔شیشم کالونی سمیت دیگر علاقوں کے کارکنوں نے سٹی جنرل سیکرٹری غلام حسین مغل کے کارکنوں کے ساتھ غیر انسانی و غیر اخلاقی گفتگو اور گروپ بندی کا مظاہرہ کرنے پر غصے اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ غلام حسین مغل کی پارٹی میں حیثیت کارکنوں کے بدولت ہے ۔علی مدد شاہ بھی پیپلز پارٹی کا عہدیدار ہے اگر اس کا پارٹی ورکروں کے علاوہ ہر خاص و عام آدمی کے ساتھ ایک جیسا برتائوہے تو اس میں غلام حسین مغل کو حسد کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

کارکنوں نے غلام حسین کے پارٹی ورکروں میں دراڑیں ڈالنے اور انہیں دل شکنی کرنے پر مایوس ہوگئے ہیں وہ عام انتخابات میں غلام حسین مغل کے عہدے سے برفی تک پارٹی کام چھوڑ ہر فورم پراحتجاج کریں گے کیوں کہ وہ پارٹی کے مفاد کے بجائے عرصہ دراز سے پارٹی مخالف کام کررہے ہیں کا اصل چہرہ کارکنوں کے سامنے آگیا ہے۔انہوں نے بلاوہ بھٹو زرداری،آصف علی زرداری۔

مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر سیدہ نفیسہ شاہ جیلانی۔سید قائم علی شاہ۔سندھ کے صدر نثار کھوڑو۔ضلع صدر ساجد بھانبھن سمیت پارٹی قیادت سے اپیل کی ہے کہ پیپلز پارٹی میں کارکنان ہی ریڑھ کی ہڈی ہیں اگر ان کے ساتھ مقامی قیادت ایسا برتائو اپنائے گی تو وہ ان کے زیر قیادت کام نہیں کریں گے اس لئے انہیں سٹی جنرل سیکرٹری کے عہدے سے ہٹایا جائے بصورت دیگر وہ احتجاجی مظاہروں اور غلام حسین کے ماضی سے حال تک کا وائٹ پیپر شایع کریں گے۔۔۔

متعلقہ عنوان :