سینیٹ انتخابات میں ممبران اسمبلی کی بولیاں لگ رہی ہیں ،گوبھی ‘ آلو کی طرح خریدا جارہاہے ،الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بناہواہے ‘ سراج الحق

ذاتی مفادات کی لڑائی لڑنے والوںسے عدالتوں کو دبنا چاہیے نہ اس کی پرواہ کرنی چاہیے ، پوری قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے ‘ امیر جماعت اسلامی

منگل فروری 22:11

سینیٹ انتخابات میں ممبران اسمبلی کی بولیاں لگ رہی ہیں ،گوبھی ‘ آلو ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 فروری2018ء) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ عدلیہ کو وہی کام کرنا چاہیے جس کا اس نے حلف اٹھایا ہے ، ذاتی مفادات کی لڑائی لڑنے والوںسے عدالتوں کو دبنا چاہیے نہ اس کی پرواہ کرنی چاہیے ، پوری قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے ، حکمرانوں نے 70سال میں اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی، 2018 ء قوم کے لیے ایک آزمائش کا سال ہے، اگر قوم نے ایک بار پھر لٹیروں اور کرپٹ مافیا کو گردنوں پر سوار کیا تو انہیں بدامنی ، غربت و جہالت ، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل سے نجات نہیں مل سکے گی ، چوہدری صفدر علی مرحوم ملک میں اسلامی انقلاب کے علمبردار تھے ، قومی تاریخ میں وہ ہمیشہ نظریہ پاکستان کے داعی کی حیثیت سے زندہ رہیں گے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے منصورہ میں سابق سیکرٹری اطلاعات و ڈائریکٹر تعلقات عامہ جماعت اسلامی صفدر علی چوہدری مرحوم کی یاد میں ہونے والے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

تعزیتی ریفرنس سے لیاقت بلوچ ، حافظ محمد ادریس ، معروف کالم نگار ڈاکٹر حسین احمد پراچہ ، رئوف طاہر ، صفدر چوہدری مرحوم کے بیٹے مبشر نعیم چوہدری و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔

تعزیتی ریفرنس میں شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات ، مرحوم کے دوست و احباب ، خاندان کے افراد اور جماعت اسلامی کے کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ سینیٹ کے انتخابات میں ممبران اسمبلی کی بھیڑ بکریوں کی طرح بولیاں لگ رہی ہیں اور ارکان اسمبلی کو گوبھی اور آلو کی طرح خریدا جارہاہے مگر الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بناہواہے ۔

الیکن کمیشن کے اس نہ رویے کی وجہ سے ہی پورا انتخابی نظام مشکوک ہوگیا سے دوچار ہے اور جاگیر دار اور سرمایہ دار الیکشن لڑنے کی بجائے ارکان کی بولیاں لگا رہے ہیں ۔ پہلے پجارو گروپ مشہور تھے اب ہیلی کاپٹر اور جہاز مافیا میدان میں آگیاہے اگر صورت حال کو سنبھالنے کی کوشش نہ کی گئی تو انتخابی نظام پر عوام کا رہا سہا اعتماد بھی اٹھ جائے گا ۔

انہوںنے کہاکہ عوام گلہ کرتے ہیں کہ اسمبلیوں میں قانون سازی نہیں ہوتی ۔ جب بڑے بڑے سوداگر اور لٹیرے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچیں گے تو وہ قانون سازی کرنے کے بجائے قومی دولت لوٹ کر اپنی تجوریاں بھریں گے ۔انہوںنے کہاکہ ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے سیاست کو پیسے کے کھیل سے آزاد کرنا ہوگا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ستر سال سے ملکی اقتدار پر قابض کرپٹ ٹولے نے تحریک پاکستان کے لاکھوں شہدا کے خون اور نظریہ پاکستان سے غداری کی ۔

جرنیلوں کی حکومت ہو یا ظالم جاگیرداروں کی ، لوگ بنیادی ضروریات زندگی کے لیے روتے اور بلکتے رہتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ جماعت اسلامی کی حکمرانوں کے ساتھ لڑائی اقتدار کے لیے نہیں بلکہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ہے ۔ حکمرانوں نے ایک دن کے لیے ملک میں اسلامی نظام کو نافذ نہیں ہونے دیا ۔ ہماری عدالتیں عوام کو انصاف دینے میں ناکام رہی ہیں ۔

سودی نظام معیشت کی وجہ سے عام آدمی کا استحصال ہورہاہے اور ملک پر 80ارب ڈالر کے قرضے ہیں ۔ عوام صاف پانی ، تعلیم ، علاج اور روزگار کی سہولتوں کے لیے پریشان ہیں مگر حکمرانوں کو عوام کے مسائل کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جماعت اسلامی کو ایک دن کے لیے اقتدار ملا تو ہم ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کو یقینی بنائیں گے کیونکہ ہمارے نزدیک ملک کے تمام مسائل کا حل اسلامی نظام میں ہے ۔

انہوںنے کہاکہ اگر 1947 ء میں ملک میں اسلامی نظام نافذ کر دیا جاتا تو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش نہ بنتا ۔ آج بھی سیکولر اور مغرب کے ذہنی غلام حکمرانوں سے پاکستان کے نظریے اور جغرافیے کو خطرہ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان چار صوبوں پہاڑوں دریائوں اور میدانوں کا نام نہیں ، یہ اسلامی نظریے اور عقیدے کی بنیادپر بنا تھا اور اسی نظریے اور عقیدے پر قائم رہے گا ۔ مقررین نے صفدر علی چوہدری مرحوم کی ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔