وفاقی بجٹ:مالی خسارہ 5.3 فیصد تک رکھنے جبکہ اخراجات میں اضافے کا امکان

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ اپریل 15:47

وفاقی بجٹ:مالی خسارہ 5.3 فیصد تک رکھنے جبکہ اخراجات میں اضافے کا امکان
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔18 اپریل۔2018ء) وفاقی بجٹ میں بین الاقوامی امداد کی غیر موجودگی میں آئندہ مالی سال میں دفاع کے لیے 11 کھرب روپے، قرض کی ادائیگی کے لیے 16 کھرب روپے مختص کرنے، مالی خسارہ 5.3 فیصد تک رکھنے جبکہ اخراجات میں اضافے کا امکان ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس کے دوران موجودہ مالی سال خسارے کے تخمینے کا بھی جائزہ لیا گیا کیونکہ اخراجات میں اضافے کی وجہ سے مالی سال 2018-2017 کے دوران خسارہ 4.1 فیصد ہدف سے بڑھ کر 5.5 فیصد تک پہنچ گیا۔

اخراجات میں اضافے کی وجہ سے وفاقی حکومت کے ترقیاتی پروگرام کے 2 کھرب 51 ارب روپے کم کر دیئے گئے اس کے ساتھ ساتھ صوبائی ترقیاتی پروگرام کے بھی 100 ارب روپے کم کردیئے گئے۔

(جاری ہے)

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے سامنے سیکرٹری خزانہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے بی ایس پی میں آئندہ مالی سال کے لیے خسارہ 52 کھرب 37 ارب مختص کیا گیا جبکہ موجودہ مالی سال کے لیے خسارے کا تخمینہ 47 کھرب 53 ارب روپے لگایا گیا تھا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اخراجات 55 کھرب روپے تک ہو سکتے ہیں اور ان اہداف کو آئندہ ہفتے منظور کیا جائے گا۔بی ایس پی میں آئندہ مالی سال میں دفاع کے لیے 11 کھرب روپے مختص کیے جبکہ موجودہ مالی سال میں 9 کھرب 20 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔وفاقی کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ آئندہ مالی سال کے لیے ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 15 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ بجٹ پیش کرنے کے روز کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ آئندہ مالی سال میں تنخواہوں میں اضافے کے لیے 36 ارب روپے اضافی رقم مختص کی جائے گی، اس کے ساتھ ساتھ پینشن کے لیے 3 کھرب 42 ارب روپے مختص کیے جائیں گے جبکہ موجودہ مالی سال میں پینشن کے لیے 2 کھرب 48 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ صوبوں کو 25 کھرب 50 ارب روپے دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ گزشتہ برس صوبوں کو 23 کھرب 80 ارب روپے فراہم کیے گئے تھے۔

بی ایس پی کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے اخراجات کو 4 کھرب 45 ارب تک مختص کیے جانے کا امکان ہے جبکہ موجود مالی سال میں یہ رقم 3 کھرب 77 ارب مختص کی گئی تھی، اسی طرح سبسڈی کے لیے بھی آئندہ مالی سال کے لیے موجودہ مال سال سے زائد رقم مختص کی جائے گی جو رواں مالی سال ایک کھرب 44 ارب روپے ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے یہ رقم ایک کھرب 79 ارب روپے ہوگی۔ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں آئندہ مالی سال کے دوران کمی کی جائے گی، 2018-2017 کے دوران اس حوالے سے 10 کھرب ایک ارب روپے مختص کیے گئے تھے جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 8 کھرب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ رواں مالی سال کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو ((ایف بی آر)) کی آمدن میں 80 ارب روپے کی کمی کا بھی امکان ہے۔