میں موت سے دس دن دور تھا جب پولیس اور طبی عملے نے مدد کی ،برطانیہ میں گھریلو تشدد کا شکار مرد کی روداد

پارٹنر جورڈن ورتھ کو ساڑھے سات سال قید کی سزا سنائی گئی

بدھ اپریل 22:49

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) برطانیہ میں گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والے ایک مرد کا کہنا ہے کہ وہ 'موت سے دس دن دور تھی' جب پولیس اور طبی عملے نے ان کی مدد کی تھی۔ برطانیہ کے علاقے بریڈفورڈشائر کے رہائشی 22 سالہ ایلکس سکیل نے پرتشدد تعلقات کا شکار بننے والے افراد سے مطالبہ کیا ہے وہ اس بارے میں کھل کر بات کریں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ان کی سابقہ پارٹنر 22 سالہ جورڈن ورتھ نے انھیں مختلف جسمانی چوٹیں پہنچائیں، خوراک نہیں دی اور ان کو خاندان والوں سے دور رکھا۔

جورڈن ورتھ کو ساڑھے سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ بریڈفورڈ شائر پولیس کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں گھریلو تشدد کے مقدمے میں سزا پانے والی یہ پہلی خاتون ہیں۔ لٹن کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ جورڈن ورتھ اور سکیل کی ملاقات سنہ 2012 میں کالج میں ہوئی تھی جب دونوں کی عمریں 16 برس تھیں۔

(جاری ہے)

آغاز سے ہی جورڈن ورتھ نے ان پر اپنا اختیار رکھا تھا، وہ انھیں بتاتیں کہ وہ کیا پہنیں اور ان پر ہاتھ بھی اٹھاتیں۔

اپنے نو ماہ کے تعلق کے دوران جورڈن ورتھ نے اپنے پارٹنر کو کئی مرتبہ جسمانی چوٹیں پہنچائیں جن میں سے اکثر کے علاج معالجے کے لیے انھیں ہسپتال بھی جانا پڑا۔تشدد کا یہ سلسلہ گذشتہ جون کی ایک شام ختم ہوا جب ایک ہمسائے نے ان کے گھر سے چیخوں کی آواز سن کر پولیس کو بلایا۔ایلکس سکیل نے بتایا کہ انھیں اپنے زخموں کے علاج کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں بتایا گیا کہ 'میں موت سے دس دن دور تھا۔' جورڈن ورتھ نے ان کے تمام موبائل بھی توڑ دیے تھے تاکہ وہ اپنے دوستوں یا خاندان والوں کے ساتھ رابطہ نہ کر سکیں۔ چوٹوں اور زخموں کے باعث ان کے سر کے کئی آپریشن بھی ہوئے تھے۔