صوبے میں امن کی بحالی سے ترقیاتی عمل اور سرگرمیوں پر عملدرآمد کی رفتار میں تیزی آئی ،وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ ترقیاتی پیکج پر عملدرآمد سے شہریوں کو صحت وصفائی، ماحولیات اور آمدورفت کی بہتر سہولتیں میسر آئیں گی،میر عبدالقدوس بزنجو کا اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطا ب

جمعرات اپریل 23:49

صوبے میں امن کی بحالی سے ترقیاتی عمل اور سرگرمیوں پر عملدرآمد کی رفتار ..
کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کوئٹہ ترقیاتی پیکج میں شامل سریاب روڈ اور جوائنٹ روڈ کی توسیع اور نواں کلی بائی پاس کی تعمیر کے منصوبوں پر آئندہ چند روز کے اندر عملدرآمد کے آغاز کا فیصلہ کرتے ہوئے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو تمام تر انتظامات فوری طور پر مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ پیکچ میں شامل دیگر ترقیاتی منصوبوں پر فوری آغاز کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

اجلاس میں کوئٹہ ترقیاتی پیکج،کیڈٹ کالج آواران، تربت بلیدہ روڈ، ایم ایٹ اور وزیراعلیٰ پیکج میں شامل ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیااور متعلقہ حکام کی جانب سے اجلاس کو منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے خصوصی طور پر اجلاس میں شرکت کی اور منصوبوں کی سیکیورٹی سمیت بلوچستان میں ایف ڈبلیو اور اور این ایل سی کے تحت سڑکوں کی تعمیر وتوسیع کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کی یقین دہانی کرائی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ صوبے میں امن کی بحالی سے ترقیاتی عمل اور سرگرمیوں پر عملدرآمد کی رفتار میں تیزی آئی ہے اور توقع ہے کہ یہ منصوبے مقررہ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچیں گے اور صوبے کے عوام ان سے فائدہ اٹھاسکیں گے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ ترقیاتی پیکج پر عملدرآمد سے شہریوں کو صحت وصفائی، ماحولیات اور آمدورفت کی بہتر سہولتیں میسر آئیں گی اور شہر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا۔

لہٰذا ان منصوبوں پر فوراً عملدرآمد اور ان کی فوری تکمیل میں مزید تاخیر نہیں ہونے دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ این ایچ اے اور واپڈ ا کے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں فنڈز کی کمی سمیت دیگر رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے وفاقی حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ ان منصوبوں میں تاخیر سے صوبے کے عوام میں احساس محرومی پیدا ہوا ہے۔

وزیراعلیٰ نے آواران میں کیڈٹ کالج کو اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیڈٹ کالج کے قیام سے نہ صرف آواران کے بچوں کو تعلیم کے بہتر مواقع میسر ہوں گے بلکہ علاقے میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے این ایچ حکام کو ہدایت کی کہ ایم ایٹ خضدار شہداد کوٹ سیکشن پر زیر تعمیر پلوں کی تعمیر جلد مکمل کی جائے جبکہ کمانڈر سدرن کمانڈ نے یقین دلایا کہ منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کو مکمل سیکیورٹی دی جائے گی۔

اجلاس میں صوبائی وزیر میر سرفراز بگٹی، چیف سیکریٹری بلوچستان اورنگزیب حق، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (منصوبہ بندی وترقیات) نصیب اللہ بازئی، متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز، کمشنر کوئٹہ ڈویژن جاوید شاہوانی، ڈی جی کیوڈی اے عمران زرکون، این ایچ اے، واپڈا اور ریلوے کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔