امریکا نے جوہری معاہدہ ختم کیا تو یورینئم افزودگی کیلئے تیار ہیں، ایران

امریکا کو کبھی بھی یہ خدشہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایران جوہری بم بنا رہا ہے، ایران کوئی جوہری بم نہیں بنا رہا، ٹرمپ انتظامیہ کے پاس جوہری معاہدہ ختم کرنے کا آپشن موجود ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو انہیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے جب کہ ایران اپنی قومی سلامتی کے لیے ہر قسم کے فیصلے اٹھائے گا، ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی صحافیوں سے گفتگو

اتوار اپریل 23:20

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے جوہری معاہدہ ختم کیا گیا تو ایران یورینئم کی افزودگی دوبارہ شروع کردے گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر امریکا 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے کو ختم کرتا ہے تو ایران بھرپور طریقے سے افزودگی کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کو کبھی بھی یہ خدشہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایران جوہری بم بنا رہا ہے، ایران کوئی جوہری بم نہیں بنا رہا۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس جوہری معاہدہ ختم کرنے کا آپشن موجود ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو انہیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے جب کہ ایران اپنی قومی سلامتی کے لیے ہر قسم کے فیصلے اٹھائے گا۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران سے ہونے والے جوہری معاہدے کی 12 مئی کو تجدید کرنا ہے تاہم اس حوالے سے انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ معاہدہ کی تجدید کے لئے دستخط نہیں کریں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ گزشتہ 15 ماہ کے دوران امریکا کئی بار معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا ملک ایران سے مزید مطالبات کی پوزیشن میں نہیں ہے۔