برطانوی حکام شرمسار، دولت مشترکہ کانفرنس کے مہمانوں میں غیر ملکی ساخت کے تحفے تقسیم

پیر اپریل 19:16

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) برطانوی حکام کو دولت مشترکہ کانفرنس کے مہمانوں میں غیر ملکی ساخت کے تحفے تقسیم کرنے پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا گیا۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق ایک ایسے موقع پر جس میں دنیا کے بیشتر ممالک کے حکمرانوں اور اعلی حکام کی شرکت رہی ہو معمولی سی معمولی باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے کہ نہ تو مہمانوں کو کوئی تکلیف ہو اور نہ ہی میزبانوں کو کوئی خفت اٹھانی پڑے۔

یہ موقع اپنی مصنوعات کو عالمی سطح پر روشناس کرانے کیلئے بہترین سمجھا جاتا ہے مگر اب اس حوالے سے جو خبر سامنے آئی ہے اس کے مطابق دولت مشترکہ کانفرنس کے مہمانوں میں غیر ملکی ساخت کے تحفے تقسیم کئے گئے۔ جن پر چین اور امریکہ کا نام درج تھا۔ یہ صورتحال کانفرنس کے منتظمین کے لئے بہت شرمندہ کرنے والی تھی کیونکہ بہت سے ممالک دولت مشترکہ میں ایسے ہیں جو اپنی الگ رائے رکھتے ہیں۔

(جاری ہے)

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جو بھی چیز مہمانوں کو دی جاتی وہ برطانوی ساختہ ہوتی مگر جن لوگوں نے تحائف کی تقسیم کی ذمہ داری سنبھالی تھی وہ شاید قومی افتخار اور ملی جذبے سے یا تو بالکل نابلد تھے یا انہوں نے اسے معمولی جانتے ہوئے تحائف تقسیم کردیئے۔ لوگوں کا کہناہے کہ اگر برطانوی منتظمین اپنے ملک کا بنا ہوا تحفہ مہمانوں کو نہیں دے سکتے تھے تو کم از کم اتنا تو وہ کر ہی سکتے تھے کہ د ولت مشترکہ میں شامل 53ممالک میں سے کسی ایک ملک کی چیزیں منگواتے اور اسے تقسیم کرتے۔

تحائف کا انتخاب کرنے والے حکا م کا کہناہے کہ انہوں نے تحائف کیلئے امریکی فرم کا انتخاب کیا تھا مگر اس امریکی فرم نے وہ چیزیں فراہم کیں جن پر میڈ ان چائنا لکھا ہواتھا۔ لوگوں کا کہناہے کہ ایسے واقعات قومی افتخار کیلئے بھی اچھے نہیں ہوتے۔ یقینی طور پر اہل برطانیہ کی اکثریت نے اس حماقت کو محسوس کیا ہوگا۔

متعلقہ عنوان :