وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے 25 ویں پالیسی بورڈ کا اجلاس

لائیو سٹاک ٹارگیٹنگ پروجیکٹس ، کراچی تھیم اور سفاری پارک پروجیکٹس ، 50 میگاواٹ پاور پروجیکٹس فارکے فور پروجیکٹ ودیگر امور پر بات چیت

پیر اپریل 22:04

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے 25 ویں پالیسی بورڈ کا اجلاس پیر کو وزیراعلی ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں لائیو اسٹاک ٹارگیٹنگ پروجیکٹس ، کراچی تھیم اور سفاری پارک پروجیکٹس ، 50 میگاواٹ پاور پروجیکٹس فارکے فور پروجیکٹ ، ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشن (ای ایم او)اسلام کوٹ اسکول پروجیکٹ، اسٹیبلشمنٹ آف انگلش میڈیم اسکول، خیرپور ہول سیل کھجور مارکیٹ پروجیکٹ ، نیشنل ا نسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (این آئی سی ایچ) کے لیے سیفٹی اینڈ سیکوریٹی سروسز پر بات چیت کی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت نے گریٹر کراچی بلب سپلائی (کے فور)منصوبے کے پہلے مرحلے کے لیے 50 میگاواٹ کا پاور پلانٹ کینجھر جھیل کے نزدیک پمپنگ اسٹیشن نمبر 1اور2 پر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ موڈ کے تحت قائم کرنے کا فیصلہ کیاہے۔

(جاری ہے)

وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ کے فور پروجیکٹ فیز ون سے کراچی شہر کے لیے 260 ملین گیلن پانی روزانہ حاصل ہوسکے گا۔انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ کو اس کی انرجی کی ضروریات کوپورا کرنے کے لیے 50 میگاواٹ کی ضرورت تھی لہذا کے فور پروجیکٹ فیز ون کے لیے 50 میگا واٹ کے پاور اسٹیشن کا قیام کی اشد ضرورت ہے۔

اس پلانٹ کو ٹرانسمیشن لائن 132 (کے وی)کے ذریعے بجلی کی فراہمی کی توقع ہے۔پی پی پی پالیسی بورڈ نے پروجیکٹ ڈیولپمنٹ فنڈنگ (پی ڈی ایف) کے لیے پرائیویٹ پارٹنر سولیسیشن کے تحت منظوری دی گئی۔صوبائی وزیر بلدیات جام خان شورونے اجلاس کو بتایا کہ کے ایم سی کو کراچی تھیم اور سفاری پارک کی ترقی کے لیے سفاری پارک میں موجودہ سہولیات کے ساتھ ایک نجی گروپ سے تجویز موصول ہوئی ہے ۔

یہ تجویز تفصیلی ، فنی ، مالی اور لیگل اسٹیڈیز پر مبنی ہے جس کے لیے نجی گروپ نے ایک نامور فرم کو ہائیر کیاہے۔پی پی پی پالیسی بورڈ نے پی پی پی موڈ کے تحت سرمایہ کاروں کے لیے منصوبے کی منظوری دی ۔سیکریٹری تعلیم اقبال درانی نے کہا کہ تھرپارکر زمین اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع ہے لیکن یہ ابھی تک انسانی ترقی کی انڈیکس میں نچلی سطح پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ تھر پارکر میں انرجی کے شعبے میں حالیہ ترقی سے انسانی ترقی میں بہتری کے حوالیسے نیا راستہ ملاہے جسے صحت اور تعلیم کی خدمات تک مزید توسیع دی جاسکتی ہے اور اس سے ناانصافی اور غربت میں کمی کے حوالے سے بہت زیادہ مدد مل سکتی ہے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیر اعلی سندھ نے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی ہے کہ اسلام کوٹ اور تھر پارکر میں پبلک اسکولوں کی انتظامیہ کو نامور اداروں سے آئوٹ سورس کرکے وہاں تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پہلے مرحلے کے دوران 37 پبلک اسکولوں کی ابتدائی فہرست تیا ر کی گئی ہے جنہیں آئوٹ سورس کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کوٹ میں موجودہ 498اسکولوں میں سے 37 اسکولوں کی ایجوکیشن کے لیول ، صنف،موجودہ انفرااسٹرکچر کی دستیابی اور طلبا کی انرولمنٹ کے حوالے سے نشاندہی کی گئی ہے ۔ پی پی پی پالیسی بورڈ نے انگلش میڈیم آرگنائزیشن کے تحت منصوبہ شروع کرنے کی منظوری دی اور اس کے ساتھ ساتھ پی پی پی موڈ کے تحت پرائیویٹ پارٹنر کی بھی منظوری دی گئی ۔

سیکریٹری زراعت ساجد جمال ابڑو نے اجلاس کو بتایا کہ خیرپور میں کھجوروں کی سالانہ پیداوار تقریبا2لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن ہے جوکہ ملک میں کھجور کی پیداوارکے حوالے سے سب سے بڑا ضلع ہے۔ ساجدجمال ابڑو نے کہا کہ خراب لوجسٹک اور انفراسٹرکچر سہولیات کی وجہ سے خیرپور میں کھجوروں کی اس ہول سیل مارکیٹ اور بڑے پیمانے پر ہونے والی فصل صحیح طریقے سے ترقی نہیں کر پارہی ہے۔

پالیسی بورڈ نے خیرپور اسپیشل اکنامک زون کے نزدیک پی پی پی موڈ کے تحت پروجیکٹ شروع کرنے کی منظوری دی۔پی پی پی پالیسی بورڈ نے این آئی سی ایچ میں سیفٹی اور سیکوریٹی کے آپریشنز کے لیے فریش پروکیورمنٹ کی بھی منظوری دی۔اجلاس میں لائیو اسٹاک ٹیجنگ پروجیکٹ پر بھی غور کیاگیا اور اسے پی پی پی موڈ سے خارج کردیاگیا۔وزیرا علی سندھ نے محکمہ فشریز اور لائیواسٹاک کو ہدایت کی کہ وہ اس منصوبے کو اے ڈی پی میں شامل کرے۔