بھارتی ہندو معاشرے کا گھنائونا چہرہ بے نقاب ہو گیا

کمسن بچیوں سے زیادتی کیخلاف آواز اٹھانے پراداکارہ سوارا بھاسکر کا بائیکاٹ کر دیاگیا

منگل اپریل 12:10

بھارتی ہندو معاشرے کا گھنائونا چہرہ بے نقاب ہو گیا
نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) بھارت میں خواتین کے تحفظ کی مخدوش صورتحال اور جنسی زیادتیوں کی ہولناک شرح دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں ہے لیکن اب بھارتی معاشرے کا ایسا گھناؤنا روپ کھل کر دنیا کے سامنے آ گیا ہے کہ کوئی انسان جس کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ویب سائٹ buzzfeed.com کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے ہندوؤں نے بالی ووڈ کی معروف اداکارہ سوارا بھاسکر کا بائیکاٹ کر رکھا ہے اور وہ جس کمپنی کی تشہیری مہم کے ساتھ جڑتی ہے، ہندو اس کمپنی کا بھی بائیکاٹ کر رہے ہیں۔

ان کے اس اقدام کی وجہ یہ ہے کہ سوارا بھاسکر نے کم سن بچیوں کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی تھی جس پر ہندو برانگیختہ ہیں اور سوارا بھاسکر کو ہر حوالے سے زک پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق کچھ ہفتے قبل 8سالہ آصفہ بانو نامی مسلمان بچی کو ہندوؤں نے مندر میں لیجا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔

سوارا بھاسکر نے اس انسانیت سوز واقعے کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے اپنے ٹوئٹراکاؤنٹ پر اپنی ایک تصویر پوسٹ کی تھی۔تصویر میں اس نے ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے جس پر لکھا ہے کہ’’میں ہندوستان ہوں، میں شرمندہ ہوں، آصفہ کو انصاف دو، 8سال کی بچی جسے دیوی ستھان مندر میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔‘‘ان دنوں سوارا بھاسکر ایمازون کی تشہیری مہم کا حصہ ہیں اور بھارتی ہندو سوشل میڈیا پر ایمازون کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے نظر آرہے ہیں۔

ان کی اکثریت کا کہنا ہے کہ ’’سوارا بھاسکر نے ہمارے ملک او ر مندروں کی توہین کی ہے، جب تک وہ ایمازون کے ساتھ کام کر رہی ہے وہ اس کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے۔‘‘حیران کن طور پر ان بائیکاٹ کرنے والوں میں کچھ نام نہاد بڑے نام بھی ہیں جن میں صحافی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے لوگ شامل ہیں۔