ملائشیا میں پولیس نے فلسطینی پروفیسر کے دونوں مشتبہ قاتلوں کی تصاویر جاری کردیں

قتل کی اس واردات کے پیچھے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ہاتھ کارفرما لگتاہے،ملائیشیاپولیس سربراہ کی پریس کانفرنس

منگل اپریل 12:27

کوالالمپور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) ملائشیا میں پولیس نے فلسطینی پروفیسر فادی البطش کے دونوں مشتبہ قاتلوں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ دونوں بظاہر شکل وشباہت سے یورپی یا مشرق اوسط سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بعد اس شٴْبے کو تقویت ملی ہے کہ قتل کی اس واردات کے پیچھے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ہاتھ کارفرما ہے۔۔غزہ کی حکمراں حماس نے بھی اسرائیل پر کوالالمپور میں پروفیسر فادی البطش کے قتل کا الزام عاید کیا ہے۔

وہ حماس کے ایک رکن تھے۔۔اسرائیل نے اس واقعے میں ملوث ہونے کی تصدیق کی اور نہ تردید کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ملائشیا کی قومی پولیس کے سربراہ محمد فوزی ہارون نے بتایاکہ دونوں ملزموں کی کمپوزٹ تصاویر عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی ہیں۔

(جاری ہے)

دونوں مشتبہ افراد کے رنگ صاف تھے اور انھوں نے سیاہ رنگ کی جیکٹیں پہن رکھی تھیں۔وہ یورپی یا مشرق اوسط سے لگ رہے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ان کی خاکا نما تصاویرملک سے باہر جانے والے تمام راستوں پر آویزاں کردی گئی ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا دونوں ملزم ملک میں ہی ہیں یا فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ملائشین پولیس نے بتایا کہ موٹر بائیک پر سوار دونوں حملہ آوروں نے اتوار کو علی الصباح 34 سالہ پروفیسر بطش کو 14 گو لیاں ماری تھیں۔اس وقت وہ کوالالمپور کے ایک نواحی علاقے میں نماز فجر کی ادائیگی کے لیے جارہے تھے۔

کلوز سرکٹ ٹی وی کی فوٹیج کے مطابق دونوں مشتبہ قاتلوں نے جائے واردات پر پروفیسر بطش کا 20 منٹ تک انتظار کیا تھا۔۔پولیس کا کہنا تھا کہ فادی البطش ملائشیا میں گذشتہ سات سال سے زیادہ عرصے سے رہ رہے تھے اور وہ ملک کے مستقل مقیم تھے۔وہ الیکٹریکل انجنیئر تھے اور ایک مقامی یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے لیکن پولیس نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا وہ راکٹ بنانے کے ماہر تھے۔۔پولیس کا کہنا تھا کہ البطش فلسطینی مسئلے پر مقامی اور غیر ملکی سطح پر کانفرنسوں اور سیمی ناروں میں شرکت کے لیے جاتے رہتے تھے اور قتل کے دن بھی وہ ترکی میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔