فرانسیسی شدت پسند خاتون کا عراق کی عدالت میں دوبارہ ٹرائل کا اعلان

بوغدیر کے خلاف دہشت گردی کے مقدمہ کی سماعت دو مئی سے ہو گی،عراقی عدالتی حکام

بدھ اپریل 11:56

بغداد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) عراق کی وفاقی اپیل کورٹ نے فرانس سے تعلق رکھنے والی ایک شدت پسند خاتون کے خلاف دوبارہ مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 27 سالہ فرانسیسی میلینا بوغدیر کو پہلے ایک فوجی عدالت کی طرف سے غیرقانونی طورپر عراق میں داخل ہونے کے الزام میں سات ماہ قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ مگر اپیل عدالت میں اس کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزام کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

عراق کے عدالتی ذریعے مطابق بوغدیر کے خلاف دہشت گردی کے مقدمہ کی سماعت دو مئی سے ہو گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک عراقی عہدیدار نے بتایا کہ اپیل کورٹ نے بوغدیر کے سابقہ پر نظر ثانی کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیرقانونی طورپر عراق میں داخل نہیں ہوئی۔ اسے علم تھا کہ جس شخص کے ساتھ اس نے شادی کی ہے وہ داعش میں شامل ہونے جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

اس کے باوجود اس نے اس کا ساتھ دیا۔

خیال رہے کہ عراقی قانون کے تحت بوغدیر کو دہشت گردی میں معاونت کے جرم میں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عراقی قانون کے تحت براہ راست دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث نہ ہونے والے افراد دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے، مالی یا لاجسٹک مدد فراہم کرنے والے بھی سزائے موت کے مستحق قرار دیے گئے ہیں۔رواں سال فروری میں عراقی عدالت نے بوغدیر کو سات ماہ قید پوری ہونے کے بعد ملک سے نکال دینے کا فیصلہ کیا تھا مگر بعد میں اسے روک لیا گیا تھا۔ بوغدیر کو گذشتہ برس دسمبر میں چار بچوں کے ساتھ موصل گرفتار کیا گیا۔ اس کے تین بچوں کو فرانس بھیج دیا گیا ہے۔