شناختی کارڈ کی فیس میں ردوبدل کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کیا گیا، ترجمان نادرا

بدھ اپریل 19:25

شناختی کارڈ کی فیس میں ردوبدل کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے احکامات کی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شناختی کارڈ کی فیس میں ردوبدل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ بدھ کو نادرا کی طرف سے جاری بیان کے مطابق فیسوں میں اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا جس کے مطابق پہلی بار شناختی بنوانے پر کوئی فیس نہیں لی جائے گی جبکہ اس کے بعد ارجنٹ شناختی کارڈ کیلئے 1150 روپے اور ایگزیکٹو کیلئے 2150 روپے فیس وصول کی جائے گی جبکہ سی این آئی سی میں موڈیفکیشن کیلئے نارمل 400 روپے فیس، ارجنٹ 1150 اور ایگزیکٹو کیلئے 2150 روپے فیس وصول کی جائے گی۔

نادرا کی طرف سے جاری بیان کے مطابق نادرا شناختی کارڈ کے اجراء کے سلسلہ میں کسی قسم کا ناجائز منافع نہیں کما رہا تاہم سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کی سماعت کے دوران نادرا کی جانب سے پیش کئے جانے والے فنانشل سٹیٹمنٹ کے تجزیے میں یہ بات عیاں ہوئی ہے کہ پاکستانیوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کے سلسلے میں نادرا کو فی شناختی کارڈ پر 40روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔

(جاری ہے)

دوران سماعت یہ بھی مشاہدے میں آیا کہ نادرا ملک میں رہنے والے پاکستانیوں کو شناختی کارڈ اور سمارٹ کارڈ کے سلسلے میں سبسڈی دیتے ہوئے انہیں شناختی کارڈ کم قیمت پر بنا کر دے رہا ہے اور یہی وجہ سمندر پار پاکستانیوں سے نیکوپNICOPکارڈ کی مد میں لی جانے والی قدرے زائد فیس کی موجب ہے تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں مقامی یعنی اندرون ملک شہریوں کیلئے بنائے جانے والے کارڈز پر سے دی جانے والی سبسڈی کم کر دی ہے تا کہ نیکوپ NICOP کارڈ کی قیمتوں میں کمی کی جا سکے تاہم شناختی کارڈ کی نئی قیمتیں بھی نارمل اور ارجنٹ کیٹیگریز کے شناختی کارڈ پر اٹھنے والے اخراجات سے کم ہیں۔

نادرا کے ترجمان نے اس حوالہ سے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سمندر پار پاکستانیوں سے کارڈ کی مد میں لی جانے والی فیس اس وجہ سے قدرے زائد تھی کیونکہ نادرا ملک میں رہنے والے پاکستانیوں کو شناختی کارڈ اور سمارٹ کارڈ کے سلسلے میں سبسڈی دیتے ہوئے انہیں شناختی کارڈ کم قیمت پر بنا کر دے رہا تھا۔انہوں نے بتایا کہ فیس میں اضافے کی ایک اور وجہ نادرا کے دنیا بھر میں قائم اپنے 14سنٹرز پر اٹھنے والے ا خراجات بھی تھے جو نادراسمندر پار پاکستانیوں کو کارڈ کی سہولیات فراہم کرنے کی غرض سے برداشت کر رہا تھا۔

یہی نہیں بلکہ نادرا 26سفارتخانوں میں دی جانے والی سہولیات اور چوبیس گھنٹے ویب بیسڈ ٹیکنالوجی جو عوام الناس کو آن لائن شناختی کارڈ کیلئے درخواست دینے کے قابل بناتی ہے پر بھی آنے والے اخراجات برداشت کر رہا ہے۔نادرا کوپاکستانیوں اور غیر ملکیوںکیلئے شناختی کارڈ جاری کرنے کے سلسلے میں 976.56روپے فی کارڈ اوسطاً لاگت آ رہی ہے جبکہ سی این آئی سی اولڈر ٹسلن کارڈ یا تو بلا معاوضہ یا پھر محض75روپے میں بنائے جا رہے تھے۔

علاوہ ازیں سمارٹ کارڈ مختلف کیٹیگریز میں یعنی نارمل کیٹیگری میں 400اور ارجنٹ کیٹیگری میں 800کے نرخ سے جاری کئے جا رہے تھے۔ایسے میں پاکستانیوں کو شناختی کارڈ اور سمارٹ کارڈ واضح سبسڈی پر جاری کئے جا رہے تھے۔ مختصر یہ کہ نادرا کو ہر کارڈ کیلئے 936.37روپے وصول ہو رہے تھے جبکہ لوکل کارڈ سے یہ فیس 495موصول ہو رہی تھی اور یوں 40روپے فی کارڈ نقصان ہورہا تھا۔

سمندرپارپاکستانیوں سے اوسطاً مبلغ5000روپے موصول کئے جاتے تھے جو اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں سے لی جانے والی یہ فیس مقامی کارڈ پر سبسڈی کا باعث بن رہی ہے۔اس سب کے تناظر میں سپریم کورٹ آف پاکستان کو نیکوپNICOPکارڈ کی زائد فیس اور مقامی کارڈ پر دی جانے والی سبسڈی سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے مقامی اور غیر ملکی کارڈ کی فیس میں اس فرق کو کم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں اور نادرا نے سپریم کورٹ کے ان احکامات کی روشنی میں اس فرق کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستانیوں اور سمندر پار پاکستانیوں کیلئے شناختی کارڈ کے اجراء کیلئے قیمتوں کو باہم مربوط بنایا ہے۔مزید یہ کہ وفاقی کابینہ نے بھیCNIC/NICOP کی قیمتوں کے اس نئے سٹرکچر کی منظوری دی ہے۔