اسٹیٹ بنک آف پاکستان سمیت ملک بھر کے 70بینکوں میں کلیریکل اور نان کلیریکل سٹاف کیڈر میں 2لاکھ افراد ڈیلی ویجز اور تھر ڈ پارٹی کنٹریکٹ پر کام کرنے پر مجبور

بدھ اپریل 22:07

اسٹیٹ بنک آف پاکستان سمیت ملک بھر کے 70بینکوں میں کلیریکل اور نان کلیریکل ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) اسٹیٹ بنک آف پاکستان سمیت ملک بھر کے 70بینکوں میں کلیریکل اور نان کلیریکل سٹاف کیڈر میں 2لاکھ افراد ڈیلی ویجز اور تھر ڈ پارٹی کنٹریکٹ پر کام کرنے پر مجبور ہیں متاثرہ ملازمین کو بینکوں کی طرف سے نہ تو میڈیکل دیا جا رہاہے اور نہ ہی پنشن دیا جا رہا ہے ۔

(جاری ہے)

1947سے لیکر اب تک اسٹیٹ بینک نے کلیریکل اور نان کلیریکل سٹاف کے مستقل بنیادوں پر بھرتی نہیں کی ہے 2016میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت خزانہ اور کابینہ ڈویژن کو کلیریکل اور نا ن کلیریکل سٹاف کیڈر کے کنٹریکٹ پر بھرتی کو غیر قانونی قرار دیتے ہو ئے مستقل بنیادوں پربھرتی کی سمری منظور کرتے ہو ئے بھرتی کے لئے نئی پالیسی بنانے کی ہدایات کی تھی جس پر عمل درآمد نہ ہو سکا ۔

پروفیشنل ملازمین کو 15ہزار روپے ماہانہ دیکر بارہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے مستقل بھرتیوں کے بجائے بینکوں نے ملازمین کو مراعات دینے کے بجائے ا ن سے حکومت کی طرف سے مقررہ کردہ کم از کم اجرت پر کام لینا شروع کردیا ہے