بحرین ، قطر کے لیے جاسوسی میں ملوث تین افراد کے خلاف مزید ثبوت پیش

تینوں مشتبہ افراد کے خلاف ملک سے غداری کا الزام،12جون کو فیصلہ سنایاجائیگا، پبلک پراسیکیوٹر اسامہ العوفی

جمعرات اپریل 12:24

منامہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) بحرین میں پبلک پراسیکیوشن نے قطر کے لیے جاسوسی کے الزام میں تین مشتبہ ملزموں کے خلاف مزید ثبوت پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔بحرین کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق قطر کے لیے جاسوسی میں ملوّث ان تینوں مشتبہ افراد علی سلمان علی احمد ، حسن علی جمعہ سلطان اور علی مہدی علی الاسود کے خلاف 12 جون کو مقدمے کا فیصلہ سنایا جائے گا۔

بحرین کے پبلک پراسیکیوٹر اسامہ العوفی کا کہنا تھا کہ ان تینوں مشتبہ افراد کے خلاف ملک سے غداری کا الزام ہے اور انھوں نے قطر سے مل کر بحرین کے خلاف مخالفانہ شرانگیز سرگرمیوں کا ارتکاب کیا تھا جس کا مقصد ملک کے سیاسی نظام کا دھڑن تختہ کرنا تھا۔ان مشتبہ افراد کو ایک غیر ملک کو بحرین کے دفاعی راز فراہم کرنے،دفاعی راز دینے کے عوض اس ملک سے رقوم وصول کرنے اور ملک کی داخلی صورت حال کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ ان پر بحرین کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے بیرون ملک اس کے خلاف شر انگیز افواہیں اور جھوٹی کہانیاں پھیلانے اور اس کے وقار کو نقصان پہنچانے کا بھی الزام ہے۔بحرین کا کہنا تھا کہ قطر کے سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ حمد بن جاسم نے 2011 میں حزب اختلاف کے ایک گروپ کے سربراہ علی سلمان کو حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں پر اکسایا تھا۔ان دونوں کے درمیان روابط رہے تھے اور اول الذکر نے بحرین میں 2011ء میں احتجاجی مظاہرے جاری رکھنے کی تحریک دی تھی۔ نیز قطر نے دوسرے عرب ممالک کی طرح بحرین میں بھی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے دہشت گرد گروپوں کی حمایت کی اور اس کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔