بلوچستان کے سود زیاں میں شریک افراد کو اپنی آئندہ نسل کو محفوظ بنانے کیلئے متحد ہونا ہوگا،میر حاجی لشکری رئیسا نی

جمعہ اپریل 23:49

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما نو ابزادہ میر حاجی لشکری رئیسا نی نے کہاہے کہ تعصب ایک لا علاج مرض ہے جس کا علاج نا ممکن ہے ،،بلوچستان کے سود زیاں میں شریک افراد کو اپنی آئندہ نسل کو محفوظ بنانے کیلئے متحد ہونا ہوگا جس دن بلوچ اورپشتون متحد اور یکجاہوئے اس دن صوبے سے ظلم و نا انصافی ، مسخ شدہ لاشیں ملنا بند ہوجائیں گی ۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے گزشتہ روز اپنی قیادت میںسینکڑوںافراد کی پارٹی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نوا بزادہ لشکری رئیسانی کا مزیدکہنا تھا کہ پشتونوںپر جب بھی برا وقت آیا بلوچ انکے شانہ بشانہ کھڑے رہے ان کا کہنا تھا کہ 16 ویں صدی میں اس خطے پر جب ایک جابر حاکم گورگین کو یہاں کے عوام پر جبر اور ظلم کرنے کیلئے مسلط کیا گیا تو اس وقت پشتون ہوتک قبیلہ کی ایک سرکردہ شخصیت میر وائس نے لوئے جرگہ طلب کیا جس میں بلوچ قبائل کے عمائدین نے بھی شرکت کی اور جرگہ میں فیصلہ ہوا کہ گورگین کوشکست دینے کیلئے حکمت عملی مرتب کی گئی اور جب گورگین اپنے لشکر کے ساتھ بلوچستان کے علاقہ ریگستان پر حملہ آور ہوا تو یہا ں آباد بلوچ پشتون اقوام نے اس کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے اس کے لشکر کو شکست دی اور جابر گورگین کو قتل کیا ۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھاکہ جب احمد شاہ ابدالی نے دہلی کا رخ کیا تو ہمارے اکابرین نے دہلی فتح کرنے تک ان کا ساتھ دیا ۔ نوابزادہ لشکری رئیسانی کا کہنا تھا کہ جب بھی اس خطے میںبلوچ اور پشتون میں اتفاق ہوا ہے توا س خطے نے ظلم جبر ، نا انصافی اور غیروں کے ظلم سے نجات پائی ہے ان کا کہنا تھا کہ آج ہمارا خطہ جس بے چارگی ، بے روزگاری ، ناخواندگی ، ظلم ، نا انصافی سے دو چار ہے اس کی واحد وجہ ہمارا منتشر ہونا ہے ان کا کہنا تھاکہ جب ہم متحد ہوکر آگے بڑھیں گے تو مجھے یقین ہے کہ اس صوبے سے ظلم نا انصافی ، مسخ شدہ لاشیں ملنا بند ہوجائیں گی ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے پائیں گے جس میں نفرت ، فرقہ واریت تعصب نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ آج پارٹی میںشامل ہونے والے پشتون قبائل کے لوگ اس پارٹی کے وارث ہیں اور امید ہے کہ وہ بلوچ پشتون اتحاد کو فروغ دیکر صوبے سے نفرت کی سیاست کا خاتمہ کرینگے ۔