قطردہشت گردوں کی معاونت کا مرتکب،

ٹھوس ثبوت ہیں،ڈ چ قانون دان قطر نے النصر ہ کی معاونت کی، مظالم کا شکار ہونے والے متاثرین کو ہرجانہ ادا کریں،لیزبیتھ خفیلڈ نے دعویٰ دائر کردیا

ہفتہ اپریل 14:04

ایمسٹرڈیم(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) ہالینڈ کی ایک خاتون انسانی حقوق کارکن اور عالمی قانون کی ماہر نے کہا ہے کہ قطر پر شام میں النصرہ فرنٹ کی مدد کا الزام محض پروپیگنڈہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے، کیونکہ قطر کے النصرہ کی مدد کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کی پروفیسر لیزبیتھ زخفیلڈ نے قطر کے خلاف دعویٰ دائر کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ دوحہ دہشت گردی کی معاونت کا مرتکب ہے اور اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

(جاری ہے)

ڈچ انسانی حقوق کارکن نے کہا کہ ہم النصرہ کی مدد کرنے پر قطری حکومت اور اس کے اداروں کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ہالینڈ میں قائم قطری سفارت خانے کے ذریعے امیر قطر کو مکتوب ارسال کرچکی ہیں جن میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ النصرہ کے مظالم کا شکار ہونے والے متاثرین کو ہرجانہ ادا کریں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ شام میں النصرہ کے ہاتھوں ستم کا شکار ہونے والے بڑی تعداد میں شہری اس وقت فرانس، جرمنی، ہالینڈ اور دوسرے ملکوں میں موجود ہیں۔ انہوں نے ایسے ایک سو سے زائد افراد سے ملاقات بھی کی ہے جنہوں نے بتایا کہ قطری حمایت یافتہ النصرہ فرنٹ کے جنگجوؤں نے ان سے غیرانسانی سلوک کیا تھا۔

متعلقہ عنوان :