دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت بالخصوص پاک فوج کے تعاون نے ہمارے حوصلوں کو نئی جلا بخشی ہے،

پاکستان کے عوام کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کو سعودی عرب کا ہر شہری قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پاکستان کی سعودی عرب سے دوستی باہمی محبت اور مشترکہ عقائد کے جس بندھن میں بندھی ہوئی ہے آئندہ آنے والے برسوں میں اسے اقتصادی اور عسکری تعاون کی نئی جہتیں حاصل ہوں گی اسلامی عسکری اتحاد کے قائمقام سیکرٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ بن عثمان الصالح کی ’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو

ہفتہ اپریل 21:27

جدہ ۔ 26 اپریل ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت بالخصوص پاک فوج کے تعاون نے ہمارے حوصلوں کو نئی جلا بخشی ہے، پاکستان کے عوام کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کو سعودی عرب کا ہر شہری قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پاکستان کی سعودی عرب سے دوستی باہمی محبت اور مشترکہ عقائد کے جس بندھن میں بندھی ہوئی ہے آئندہ آنے والے برسوں میں اسے اقتصادی اور عسکری تعاون کی نئی جہتیں حاصل ہوں گی۔

ان خیالات کا اظہار انسداد دہشتگردی کے مشترکہ اسلامی عسکری اتحاد کے قائمقام سیکرٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ بن عثمان الصالح نے ’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو میں کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ بن عثمان الصالح کی زیرسرکردگی اس اتحاد میں 24اسلامی ممالک کی افواج شامل ہیں اور یہ اتحاد دہشتگردی کے خلاف غیرمعمولی طاقت اور پیشہ وارانہ اہلیت کا حامل ہے۔

(جاری ہے)

جنرل صالح نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دہشتگردی پوری دنیا بالخصوص اسلامی دنیا کے لئے بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انٹیلی جنس سے لے کر آپریشن تک کے تمام مراحل میں غیرمعمولی مستعدی اور صلاحیت کار کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے بصورت دیگر دہشتگردوں کی سرکوبی مشکل ہوتی ہے، اس ضمن میں دہشتگردی کے خلاف قائم مشترکہ اسلامی عسکری اتحاد رکن ممالک کے عسکری ماہرین کی مشاورت سے حکمت عملی ترتیب دے رہا ہے، اس حوالے سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کردار اور باہمی تعاون خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

اس اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت اور عوام پاکستان کے اس اقدام کو قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پاکستان کی شمولیت سے ہمارے عزم کو مزید جلا ملی ہے۔ دہشتگردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا پاکستان کو عرصہ دراز سے سامنا ہے اور پاکستان کی حکومتوں، فوج،، عوام اور میڈیا نے مل جل کر اس چیلنج کا جس جرات، عزم، حوصلے اور حکمت عملی سے مقابلہ کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی حکمت عملی سے ہم نے بھی کافی اہم سبق حاصل کیا ہے، اسلامی عسکری اتحاد دہشتگردی کے خلاف اپنی حکمت عملی میں پاکستان کے تجربات اور کامیابیوں کو مدنظر رکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد اپنے مذموم مقاصد کیلئے دہشتگردی کی کارروائیاں کر کے عوام کے اندر احساس عدم تحفظ، خوف اور بے چینی پیدا کرتے ہیں جس سے نمٹنے کیلئے پوری قوم کو متحد اور چوکس رہنا پڑتا ہے، اس حوالے سے میڈیا بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے، میڈیا کو ہر قسم کے بیرونی خطرات، جارحیت اور دہشتگردی کے خلاف عوام میں آگاہی اور جرات کو بیدار کرنا چاہیے۔

انہوں نے اس تناظر میں پاکستانی میڈیا کے کردار کی تعریف کی جس نے دہشتگردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں پاک فوج کی قربانیوں کو اجاگر کرنے اور عوام میں اتحاد و یگانگت اور جرات کا جذبہ بیدار کرنے میں فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں میڈیا ہر شعبہ زندگی پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے بالخصوص امن و سلامتی کے حوالے سے اس کا کردار غیرمعمولی توجہ کا حامل ہے۔

سعودی عرب،، پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے میڈیا کو انتہاپسندانہ سوچ اور سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کے لئے اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرنا چاہیے، اس پر ان معاشروں کی سلامتی ، خوشحالی اور استحکام کا انحصار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے میڈیا کو بھی ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔