شمالی کوریا اپنی جوہری سائٹ مئی میں بند کر دے گا

جوہری سائٹ کو بند کرنے کیلئے جلد ہی جنوبی کوریا اور امریکی ماہرین کو مدعو کریں گے تاکہ وہ بند کرنے کے عمل کو بین الاقوامی برادری کے سامنے شفافیت کے ساتھ پیش کریں، صدارتی ترجمان جنوبی کوریا شمالی کوریا کے ساتھ ’آئندہ تین سے چار ہفتوں میں بات چیت ہو سکتی ہے،امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ

اتوار اپریل 19:20

سیئول (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے کہا ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری تجربات کی سائٹ کو مئی میں بند کر دے گا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ ’آئندہ تین سے چار ہفتوں میں بات چیت ہو سکتی ہے۔جنوبی کوریا کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ پنگئی ری سائٹ کو باضابطہ طور پر بند کیا جائے گا اور جنوبی کوریا اور امریکی ماہرین کو اس کے معائنے کے لیے مدعو کیا جائے گا۔

جنوبی کوریا کے صدارتی ترجمان یون ینگ چان نے کہا کہ کم جونگ ان نے کہا ہے کہ وہ مئی میں جوہری سائٹ کو بند کریں گے اور جلد ہی جنوبی کوریا اور امریکی ماہرین کو مدعو کریں گے تاکہ وہ بند کرنے کے عمل کو بین الاقوامی برادری کے سامنے شفافیت کے ساتھ پیش کریں۔

(جاری ہے)

صدر کے دفتر نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا جنوبی کوریا کے وقت کے ساتھ اپنی گھڑی ملائے گا۔

ابھی شمالی کوریا جنوبی کوریا کے مقابلے اپنا مقامی وقت نصف گھنٹے پہلے رکھتا ہے۔ پنگئی ری سائٹ ملک کے شمال مشرقی پہاڑی علافقے میں قائم ہے اور یہ ملک کی اہم ترین جوہری تنصیب کہی جاتی ہے اور اس کے پاس مینٹاپ پہاڑ کے اندر سرنگوں میں بنے نظام میں جوہری تجربات کیے گئے ہیں۔شمالی کوریا سنہ 2006 سے اب تک چھ بار جوہری تجربات کر چکا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے ساتھ ’آئندہ تین سے چار ہفتوں میں‘ بات چیت ہو سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بہت اہم ملاقات ہوگی، جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر بات ہوگی۔جبکہ امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پوم پیاو کہا کہ حال ہی میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ پیانگ یانگ میں ان کی ’اچھی ملاقات‘ رہی۔جمعے کو کم جونگ اٴْن اور جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

دونوں کوریائی ممالک کے درمیان سربراہی کانفرنس شمالی کوریا سے جنگی دھمکیوں کے چند ماہ بعد ہوئی ہے۔کوریا کی سنہ 1953 کی جنگ کے بعد کم جونگ ان پہلے شمالی کوریائی سربراہ ہیں جنھوں نے جنوبی کوریا میں قدم رکھا ہے۔ایک عرصے تک پیانگ یانگ اس بات پر بضد رہا ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام ترک نہیں کرے گا اور اس کا کہنا ہے کہ اسے امریکی جارحیت کے خلاف اپنے ملک کے دفاع کے لیے اس کی ضرورت ہے۔

واشنگٹن میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: ’میرے خیا ل سے آنے والے تین سے چار ہفتوں میں ہماری ملاقات ہوگی۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ کوریائی جزیرہ نما کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر کامیاب مذاکرات کریں گے۔ لیکن انھوں نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو وہ اجلاس سے اٹھ کر چلے جائیں گے۔امریکی حکام ابھی تک یہ طے کرنے میں لگے ہیں کہ صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات کہاں رکھی جائے۔

تاہم اس کے لیے دو ممالک منگولیا اور سنگاپور کا نام سامنے آ رہا ہے۔کم جونگ ان اور مون جے ان نے کہا کہ وہ امریکہ اور چین کے ساتھ مل کر باضابطہ طور پر سنہ 1953 کی جنگ کو ختم کریں گے۔ اس جنگ کا خاتمہ جنگ بندی پر ہوا تھا لیکن امن کی مکمل بحالی نہیں ہوئی تھی۔ جمعے کو کم جونگ اٴْن اور جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن نے خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے عہد کا مطلب واضح طور پر یہ نہیں کہ شمالی کوریا اپنی جوہری سرگرمی روک دیگا لیکن اس کا مقصد کوریائی جزیرہ نما کو جوہری ہتھیار سے پاک کرنا ہی