پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ، پاکستان ایک زمانے میں کھیلوں کی دنیا پر چھایا ہوا تھا ‘ممنو ن حسین

بچے کھیلوں کے میدان آباد کرکے ملک سے جہالت اور تنگ نظری جیسی برائیوں کا خاتمہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں حکومت کو اپنے بچوں اور نوجوانوں کی ضروریات کا علم ہے اور وہ پوری تن دہی سے ان سہولیات کی فراہمی کے لئے کام کر رہی ہے‘صدر مملکت کا تقریب سے خطاب

اتوار اپریل 20:10

نارووال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ کھیلوں کے شعبے کی قومی ترجیحات میں کمی سے نہ صرف ہماری کامیابیوں کا سفر رک گیا بلکہ ملک میں منفی رجحانات نے بھی فروغ پایا جس کے نتیجے میں بے پناہ جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا لیکن اب وقت بدل گیا ہے، کھیلوں کے میدان دوبارہ آباد ہو رہے ہیں جو ہماری ترجیحات کا پیش خیمہ ہیں۔

صدر مملکت نے یہ بات نارووال میں سپورٹس سٹی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پروفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال بھی موجود تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں وہی قومیں ترقی اور عروج کی منزل پر پہنچیں جن کے کھیل کے میدان آباد تھے کیونکہ یہ کھیل کے میدان ہی ہیں جو نوجوانوں کی توجہ مثبت سرگرمیوں کی طرف مبذول کروا کے ان کی صلاحیتوں کو نکھارتے اور پروان چڑھاتے ہیں ۔

(جاری ہے)

اس کے مقابلے میں جن قوموں کی توجہ اس طرح کی مثبت اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی طرف نہیں ہوتی ، ان ملکوں میں کھیل کے میدان ویران ہو جاتے ہیں اور نوجوانوں کی صلاحیتیں تعمیر کے بجائے تخریب کی طرف مبذول ہو جاتی ہیں ۔ صدر مملکت نے کہا کہ قوم اپنے آہنی عزم اور بے شمار قربانیوں کے بعد دہشت گردوں کو شکست سے دوچار کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے ۔ اب اسے چھٹکارے کے لیے ضروری ہے کہ کہ نوجوانوں کو تعلیم اور کھیل جیسی صحت مند سرگرمیوں میں مصروف کر دیا جائے ۔

صدر مملکت نے کہا کہ کھیل کود کے بارے میں ایک عمومی تصور اگرچہ یہ ہے کہ یہ ایک اضافی اور غیر نصابی سرگرمی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس قوم کے کھیل کے میدان آباد ہوتے ہیں ، اس قوم کی صرف جسمانی صحت ہی یقینی نہیں ہو جاتی بلکہ وہ قوم ذہنی ، نفسیاتی اور روحانی اعتبار سے بھی صحت مند ہو جاتی ہے اور وہ دنیا میں اپنی کارکردگی کا ایسا مثبت نقش قائم کرتی ہے جسے مدتوں یاد رکھا جاتا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کو علم کی روشنی سے منور کرنے والے مفکرین کی دلچسپیوں اور سرگرمیوں میں توازن تھا جس نے انہیں صدیوں یاد رہنے والی شخصیات میں بدل دیا ۔ دنیا میں ان ہی قوموں نے نام پیدا کیا جن کے جوانوں نے کھیل کے میدانوں پر حکمرانی کی ۔ انھوں نے کہا کوئی معاشرہ کھیل کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتا کیوں کہ یہ کھیل ہی ہیں جو افرادِ معاشرہ میں نظم و ضبط ، ٹیم ورک کا جذبہ اور صحت مند خیالات پیدا کرکے اسے ترقی کی راہ پر گامزن کر دیتے ہیں ۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ پاکستان ایک زمانے میں کھیلوں کی دنیا پر چھایا ہوا تھا ۔ ہاکی اور اسکوائش سمیت بہت سی دیگر کھیلوں میں ہمارے کھلاڑی دنیا بھر میں ناقابلِ تسخیر تھے ، ہماری کرکٹ ٹیم فتوحات کے جھنڈے گاڑ رہی تھی لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کامیابیوں کی رفتار کم ہوتی گئی ۔ اس کی بنیادی وجہ میرٹ کی پامالی اور ترجیحات کے درست تعین سے گریز تھا لیکن اب صورتِ حال بدل چکی ہے ۔

حکومت اس طرح کے عظیم الشان منصوبے مکمل کر رہی ہے جو نہ صرف علاقائی سطح پر کھیلوں کے فروغ کا ذریعہ بنیں گے بلکہ ہمارا جوہرِ قابل گلی کوچوں اور دور دراز مقامات سے ابھر کر قومی سطح پر نام پیدا کرے گا اور بالآخر کھیل کے بین الاقوامی میدانوں میں پاکستان کا پرچم سر بلند کرے گا ۔ انھوں نے بچوں سے کہا کہ وہ کھیلوں کے میدان آباد کرکے ملک سے جہالت اور تنگ نظری جیسی برائیوں کا خاتمہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور صحت مند انہ سرگرمیوں کو فروغ دے کر وطنِ عزیز کی ترقی اور نیک نامی کا راستہ ہموار کریں ۔

انھوں نے کہا کہ نارووال سپورٹس سٹی اور انہی خطوط پر ملک کے دیگر حصوں میں کھیلوں کی ترویج اور نوجوانوں کو اس سلسلے میں سہولتیں فراہم کرنے کے لیے زیرِ عمل منصوبے اس امر کا ثبوت ہیں کہ حکومت پاکستان کو اپنے بچوں اور نوجوانوں کی ضروریات کا علم ہے اور وہ پوری تن دہی سے ان سہولیات کی فراہمی کے لئے کام کر رہی ہے ۔ انھوں نے مسرت کا اظہار کیا کہ اس شہر کے نمائندوں اور خدمت گاروں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے ، اب یہ آپ کی ذمے داری ہے کہ ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا کر کھیلوں کی دنیا میں پاکستان کا جھنڈا سر بلند کر یں گے۔