توانائی کے عالمی بحران کا حل، بگ بین سی3گنا بڑا ونڈ ٹربائن

پیر اپریل 23:18

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) توانائی کے عالمی بحران کے حل کے لئے بگ بین سے 3گنا بڑا ونڈ ٹربائن لگایا جا ئے گا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کو ممکن بنانے اور بحران کا حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں مگر اب سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے جن کا تعلق برطانیہ سمیت کئی ممالک سے ہے۔

ایک ایسا منصوبہ پیش کیا ہے جس کے ذریعے مسئلہ اور توانائی کا بحران ختم کیا جاسکتا ہے مگر توانائی اور بجلی کی پیداوار اور استعمال کے حوالے سے مختلف موضوعات پر ماہرانہ نظر ڈالنے کے حوالے سے مشہور سائنسی مصنف جیمز ڈیلنگ پول اس منصوبے سے زیادہ مطمئن نہیں کہ منصوبے کے تحت دنیا کا جو سب سے بڑا ونڈ ٹربائن بنایا جانے والا ہے اس سے توانائی کا عالمی بحران کم ہوجائیگا۔

(جاری ہے)

انکا خیال ہے کہ ہم جن خوش فہمیوں میں مبتلا ہیں وہ آخر کار خوش فہمیاں ہی رہ جائیں گی اور عملی طور پر کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ واضح ہو کہ سائنسی دنیا تقریباً1930ء سے توانائی کا بحران ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور تاریخی اعتبار سے مشہور جرمن موجد ڈاکٹر فرانس لاواسزیک نے سب سے پہلے ایک ایسا منصوبہ پیش کیا تھا جس کے تحت ان کے خیال میں بہت آسانی سے اور بہت جلد توانائی کا بحران حل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے اپنے تحقیقی مقالے میں لکھاتھا کہ ہوا کی طاقت یا ونڈ پاور جس پر کوئی لاگت بھی نہیں آتی بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کرنے کے کام آسکتی ہے۔ ضرورت ہے کہ ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے او راتنا کام کیا جائے کہ اس طرح پیدا ہونے والی بجلی تھرمل پاور بجلی سے کہیں سستی ہو۔ ان کے اندازے کے مطابق مقاصد کے حصول کیلئے قائم کئے جانے والے ونڈ ٹاور کم سے کم 100میٹر اونچے ہونے چاہئے اور اگر اس کی اونچائی 100میٹر سے بھی زیادہ ہو تو اور بھی اچھی بات ہے۔ اس کے علاوہ اس میں جو روٹر لگیں وہ بھی100میٹر قطر والے ہوں۔ واضح ہو کہ ڈاکٹر فرانس کے اس منصوبے سے ایک بھونچال آگیا تھا اور نازیوں نے اسکی جم کر مخالفت کی تھی۔