ایسی کوئی غلط بات نہیں کی کہ مسلمانوں سے معافی مانگوں،امریکی صدر

میرے معافی مانگنے سے بھی کچھ نہیں ہوگا،امیگریشن حکام کے اپنے قوانین موجود ہیں،جنہیں مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے،پریس کانفرس سے خطاب

منگل مئی 20:05

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مسلمانوں پر سفری پابندی عائد کرنے سے متعلق اپنے بیان پر کوئی افسوس نہیں ہے۔گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائیجریا کے صدر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے درمیان امریکی امیگریشن پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے کمزور، قابل رحم، اور متروک قرار دیا،انہوں نے اپنی صدارتی مہم 2016 کے دوران مسلمانوں پر سفری پابندی عائد کرنے کے نعرے پر معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں پر سفری پابندی سے متعلق بیان میں ایسا کچھ منفی نہیں جس پر معافی مانگی جائے،حکومت اپنے ملک کی حفاظت کیلئے مضبوط اور فول پروف امیگریشن نظام رکھتی ہے،میرے معافی مانگنے سے بھی کچھ نہیں ہوگا کیونکہ امیگریشن سے متعلق قوانین اپنی جگہ موجود رہیں گے جسے مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے،کیونکہ دنیا ہماری پالیسی پر ہنستی ہے اور ہماری نرمی سے فائدہ اٴْٹھاتے ہوئے لوگ امریکا میں داخل ہوتے ہیں اور امریکا کو ہی آنکھیں دکھاتے ہیں جیسے میکسیکو سے امریکا میں ہونیوالی ہجرت ہے۔

(جاری ہے)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امیگریشن کے حوالے سے اپنے سخت اور نفرت آمیز موقف کے باعث مقدمات کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ امیگریشن قوانین سے متعلق ٹرمپ کے اس بیان کے بعد انہیں اپنے مقدمات میں مشکل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

متعلقہ عنوان :