رواں برس معاشی ترقی 5.8 فیصد تک پہنچ سکتی ہے ، ماہرین

آئی ایم ایف کے پاس گئے تو کئی برسوں تک منفی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا

بدھ مئی 15:50

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) معاشی ماہرین نے امیدظاہرکی ہے رواں برس پاکستان کی معاشی ترقی 5.8 فیصد تک پہنچ سکتی ہے ۔ ماہرین نے بتایا کہ2013-14 کے مالی سال کے بعد اقتصادی ترقی میں پھیلائو دیکھنے میں آیا کیونکہ گزشتہ پانچ برس میں جی ڈی پی گروتھ ریٹ 4.8 فیصد رہا جبکہ 2008 سے 2013 کے درمیان اوسطا گروتھ 2.8 فیصد رہی تھی ۔

(جاری ہے)

معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ رواں برس اقتصادی اشاریوں میں بہتری آئے گی، حالیہ بجٹ میں بڑے پیمانے پر ٹیکس کٹوتی سے نئی سرمایہ کاری کے رحجان میں اضافہ ہوگا ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ بیرونی کھاتوں کی مد میں اقتصادی ترقی کو تھوڑا دھچکا لگے گا،ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا کر چینی اور روسی سرمایہ کار مارکیٹ میں سرمایہ لگائیں گے اور ایکسپورٹ میں اضافے سے روپے کی قدر مستحکم ہوگی مو جودہ اقتصادی ترقی کی ایک بڑی وجہ بیرونی قرضے ہیں لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے دروازے پر دوبارہ دستک دینا پڑے گی، جس کا ہمیں اگلے کئی برسوں تک منفی نتائج کا سامنا رہیگا۔