سو فیصد داخلہ یقینی بنانے کے پروگرام سے تعلیمی اداروں میں 100 فیصد حاضری اور ڈگری کا حصول یقینی ہو سکے گا، رازینہ عالم خان

جمعرات مئی 23:14

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) قومی کمیشن برائے انسانی ترقی (این سی ایچ ڈی) کی چیئرپرسن رازینہ عالم خان نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور 100 فیصد داخلہ یقینی بنانے کے پروگرام 100، 100، 100 کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس پروگرام سے تعلیمی اداروں میں 100 فیصد حاضری اور ڈگری کا حصول یقینی ہو سکے گا۔

چھٹی ایڈوائزری کونسل میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے 57 ملین غیر تعلیم یافتہ اور 22.6 ملین سکولوں سے باہر طلباء کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے بہت سے اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم 100 فیصد داخلہ، 100 فیصد گریجوایشن اور سو فیصد شرح تعلیم کو یقینی بنانے کے لئے دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کوششوں کو تیز کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہمارا عزم ہے کہ اپنی قوم کو تعلیم یافتہ اقوام میں شامل کیا جائے۔

اجلاس میں ڈاکٹر نگہت آغا (سینیٹر)، اورنگزیب حق (چیف سیکرٹری بلوچستان) ڈاکٹر ہارونہ جتوئی (ماہر تعلیم) ڈاکٹر غلام حیدر (سابق چیف اکانومسٹ آزاد کشمیر)، ڈاکٹر اجمل (چیئرمین ڈی این ایف ای، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی)، میجر جنرل محمد طاہر، عابد گل (پراجیکٹ کو آرڈینیٹر جائیکا)، شاہین عتیق الرحمن (بنیاد لٹریسی کمیونٹی کونسل) اور ثمینہ وقار (ڈی جی۔

این سی ایچ ڈی) اور این سی ایچ ڈی کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر پانچویں اجلاس کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ ہایئر ایجوکیشن کمیشن سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ تعلیم کو شامل کرے اور نیف مضمون کے طور پر اس کی فیوچر سٹڈیز کرائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے توثیق کی جانے والی این سی ایچ ڈی کی ترمیم شدہ پی سی ون کو سینٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں نے منظوری دیدی ہے اور پلاننگ کمیشن کو جمع کرا دیا گیا ہے۔

چیئرپرسن کو بتایا گیا کہ ملک میں شرح خواندگی میں ایک فیصد سالانہ سے اضافہ ہو رہا ہے اور 2025ء تک ہم 68 فیصد شرح خواندگی حاصل کر سکیں گے۔ چیئرپرسن نے کہا کہ این سی ایچ ڈی اس پر یقین رکھتی ہے کہ اگر آبادی اور سکولوں سے باہر طلباء کو ہدف بنایا جائے تو ہم شرح خواندگی کا ہدف حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این سی ایچ ڈی نے اس کے لئے ملک بھر کے دور دراز علاقوں میں سکولوں سے باہر بچوں کو اپنے 5949 فیڈر سکولوں کے ذریعے تعلیم دے رہی ہے جبکہ غیر تعلیم یافتہ افراد کے لئے تعلیم بالغاں سینٹر بنائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ این سی ایچ ڈی وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے تحت شرح خواندگی کو 90 فیصد اور سکولوں میں داخلہ 100 فیصد کرنے کے لئے ایکشن پلان 2018-2025ء پر عمل کر رہا ہے۔ فیڈر سکولوں کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے پروگرام کی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے تیسرے فریق سے توثیق کرائی ہے۔ رازینہ عالم خان نے کہا کہ نیشنل ایجوکیشن اسیسمنٹ سسٹم (نیس) نے این سی ایچ ڈی اور بی ای سی ایس فیڈر سکولوں کی اسیسمنٹ کی ہے اور بتایا گیا ہے کہ این سی ایچ ڈی کی اس میں کارکردگی قابل قدر رہی اور بی ای سی ایس سے بہتر رہی۔

انہوں نے بتایا کہ تیسرے فریق سے 100 مدارس کی بھی توثیق کرائی گئی جس میں ان کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے دائرہ کار کو پانچ سو مدارس تک بڑھایا جا رہا ہے اور اس کے سلیبس میں کمپیوٹر کی تعلیم کو بھی شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 16 سال کی عمر تک کے 6.4 ملین آئوٹ آف سکول چلڈرن قومی پلان آف ایکشن کا حصہ ہیں اور ان کو تعلیمی اداروں میں داخلہ کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پلان آف ایکشن میں تجویز کیا گیا ہے کہ 34 ہزار غیر رسمی سکول قائم کئے جائیں۔ این سی ایچ ڈی اور بی ای سی ایس آئندہ پانچ سالوں میں سکول قائم کرے گی تاکہ 2025ء تک 7 ملین طلباء کو تعلیم دی جا سکے۔ چیئرپرسن این سی ایچ ڈی نے کہا کہ سکولوں میں داخلہ کی شرح میں اضافہ کے لئے این سی ایچ ڈی صوبائی محکمہ تعلیم کو بھی تعاون کرے گا۔ ایڈوائزری کونسل کے ارکان نے تعلیم کے شعبہ میں این سی ایچ ڈی کی کوششوں کی سراہا۔