قومی انتخابات کی تاریخ کا تعین صدر مملکت یکم جون کو اپنے صدارتی حکم کے ذریعے جاری کرنے کے مجاز ہیں،

چند دہائیوں میں ہونیوالے عام انتخابات کے نتیجہ میں پاکستان میں سیاسی شعور میں اضافہ ہوا ہے سابق وفاقی سیکر ٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان و چیئرمین نیشنل ڈیمو کریٹک فائونڈیشن کنور محمد دلشاد کا شرکاء سے خطاب

جمعرات مئی 23:38

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 مئی2018ء) سابق وفاقی سیکر ٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان و چیئرمین نیشنل ڈیمو کریٹک فائونڈیشن کنور محمد دلشاد نے کہا ہے کہ قومی انتخابات کی تاریخ کا تعین صدر مملکت یکم جون کو اپنے صدارتی حکم کے ذریعے جاری کرنے کے مجاز ہیں،چند دہائیوں میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجہ میں پاکستان میں سیاسی شعور میں اضافہ ہوا ہے ۔

جمعرات کو سینٹر فار پالیسی سٹڈیز اور نیشنل ڈیمو کریٹک فائونڈیشن کے زیر اہتمام کامسیٹس میں منعقدہ گول میز مذاکرے کے شرکاء سے خطاب کر تے ہوئے سابق وفاقی سیکر ٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان و چیئرمین نیشنل ڈیمو کریٹک فائونڈیشن کنور محمد دلشاد نے کہا کہ چند دہائیوں میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجہ میں پاکستان میں سیاسی شعور میں اضافہ ہوا ہے ، حلقہ بندیاں اور ووٹر لسٹیں کسی بھی انتخابات کے لئے کلیدی حیثیت کی حامل ہوتی ہیں ، ان میں شفافیت انتخابات میں شفافیت سمجھی جاتی ہے ، انتخابی فہرستوں اور حلقہ بندیوں پر اعتراضات عمومی طور پر دنیا بھر میں ہوتے ہیں ، حلقہ بندیوں کے تنازعہ کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا نے احسن طریقے سے حل کروا کے حلقہ بندیوں کا حتمی گزٹ نو ٹیفکیشن جاری کر کے وقت مقررہ پر انتخابات کروانے کی راہ ہموار کر دی ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اسی ماہ کے آخری دنوں میں انتخابی شیڈول جاری کرنے سے پیشتراہم پالیسی حکمت، عملی پر قوم کو اعتماد میں لینے کا مجاز ہے اور الیکشن کی مقررہ تاریخ کا اعلامیہ صدر مملکت الیکشن ایکٹ کی دفعہ 57کے تحت چیف الیکشن کمشنر کی مشاورت سے یکم جون کو جاری کرنے کا قانونی طور پر پابند ہے ، توقع ہے کہ صدر مملکت اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد الیکشن کی تاریخ کا صدارتی فرمان جاری کر دیں گے ، اور توقع ہے کہ 4جون تک نگران حکومت کی تشکیل بھی مکمل ہو جائے گی ، اسی طرح الیکشن ایکٹ 2017کی دفعہ 57کی شق 2کے تحت الیکشن شیڈول ایک ہفتہ کے اندر جاری ہو جائے گا۔