ٹیلیگرام پر عدالتی پابندی جمہوریت کے منافی ہے،ایرانی صدر کی تنقید

حکومت ایک محفوظ انٹرنیٹ چاہتی ہے نہ کہ کنٹرول شدہ،ٹیلیگرام پر پابندی کے عدالتی فیصلے کی توثیق نہیں کی،بیان

ہفتہ مئی 15:00

تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) ایران کے صدر حسن روحانی نے عدالت کی طرف سے انٹرنیٹ پر پیغام رسانی کی سروس ٹیلیگرام پر پابندی عائد کیے جانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت اس اقدام کی حمایت نہیں کرتی۔میڈیارپورٹس کے مطابق اپنے انسٹاگرام پر روحانی کا کہنا تھا کہ حکومت ایک محفوظ انٹرنیٹ چاہتی ہے نہ کہ کنٹرول شدہ۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کے لیے نہ تو حکومت نے حکم دیا اور نہ ہی وہ اس کی توثیق کرتی ہے،ہم معلومات کی آزادانہ فراہمی کے ساتھ ساتھ انتخاب کی آزادی کے شہری حقوق چاہتے ہیں، یہ اقدام جمہوریت کے منافی ہے۔۔ایران کی میڈیا و ثقافت کی عدالت نے گزشتہ ہفتے یہ کہہ کر کر ٹیلیگرام پر پابندی عائد کر دی تھی کہ یہ ایران کی سلامتی کے لیے خطرے پر مبنی اقدام کے استعمال کی جاتی رہی جن میں گزشتہ دسمبر اور رواں سال جنوری میں ہونے والیمظاہروں، پارلیمنٹ پر حملے اور گزشتہ جون میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کے مزار پر حملے پر اکسانے میں استعمال کی گئی۔