بابا رحمتےکے فیصلے کواس پراعتماد کےباعث سب مانتے ہیں

گاؤں میں تنازعات کےمتبادل حل کےطریقےکی جڑ پنچایتی نظام ہے،جب سیکریٹری قانون تھا تو دیکھا کئی قوانین متصادم اوربےکارہیں،مقننہ کا احترام کرتے ہیں،کسی کوبنیادی انسانی حقوق سلب کرنےکی اجازت نہیں دیںگے۔ جوڈیشل کانفرنس کےاختتامی اجلاس سےخطاب

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ مئی 19:55

بابا رحمتےکے فیصلے کواس پراعتماد کےباعث سب مانتے ہیں
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔05مئی 2018ء) : چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ بابا رحمتے کے فیصلے کواس پراعتماد کےباعث سب مانتے ہیں،گاؤں میں تنازعات کے متبادل حل کے طریقےکی جڑپنچایت نظام سے ہے،جب سیکریٹری قانون تھا تو دیکھا کئی قوانین متصادم اوربےکارہیں،مقننہ کا احترام کرتے ہیں،کسی کوبنیادی انسانی حقوق سلب کرنےکی اجازت نہیں دیںگے۔

چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثارنے جوڈیشل کانفرنس کےاختتامی اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقننہ کا احترام کرتے ہیں۔آئین کا ابتدائیہ کہتا ہے ملک منتخب نمائندوں کے ذریعے چلایا جائیگا،یہی آئین کی کمانڈ ہے۔ قانون کی حکمرانی سےمعاشرے کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔ پرُامن معاشرے ہی ترقی کی منزل طے کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

پرامن معاشرےمیں ہی ترقی کےامکانات روشن ہوتےہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقننہ کا احترام کرتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی کےبغیرترقی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ نے آئین کے تحفظ اوردفاع کا حلف لے رکھا ہے۔ ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ ہمارے پاس آئین ہے۔ ہم کبھی اپنے آئینی حلف کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے بنیادی حقوق کے محافظ ہیں۔ شہریوں کےبنیادی حقوق کاتحفظ بھی ہماری اولین ذمے داری ہے۔

عدلیہ آئین کی محافظ ہے،انصاف کی فراہمی بنیادی ذمے داری ہے۔ آئین سازی کے عمل کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ جوڈیشل کانفرنس کے انعقاد پرججز کا مشکور ہوں۔ بارکونسلزلا اینڈ جسٹس کمیشن کوسفارشات پیش کرسکتی ہیں۔میری استدعا ہوگی جسٹس آصف کھوسہ عمل درآمد کمیٹی کےسربراہ ہوں۔ پاکستان میں قراردادیں منظورہوجاتی ہیں اصل مسئلہ عمل درآمد کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنازعات کےمتبادل حل کا طریقہ کارپاکستان میں کوئی نیا تصورنہیں۔تنازعات کے متبادل حل کے طریقےکی جڑگاؤں میں پنچایت نظام سے ہے۔ بابا رحمتے کے فیصلے کواس کی ساکھ پراعتماد کے باعث سب مانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب سیکریٹری قانون تھا تو دیکھا کئی قوانین متصادم اوربے کارہیں۔ وکلاء برادری سفارشات دے تاکہ ایسے قوانین قانون کی کتابوں سے نکالے جاسکیں۔