’بلوچستان اٹیچڈ(منسلک) دفاتر آفیسرز ایکشن کمیٹی‘‘ کے نام سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دینے کا فیصلہ

ماتحت اداروں کے آفیسران و ملازمین کو الائونسز سے محروم رکھنا قابل احتجاج ہے، امتیازی سلوک کو حکومت فوری طور پر ختم کرکے دیگر ماتحت دفاتر ،ڈائریکٹوریٹس کے آفیسران و ملازمین کو بھی الائونسز دئیے جائیں ،ڈائریکٹر جنرل لیبر شجاع ملک گچکی

پیر مئی 20:32

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) بلوچستان کے تمام سرکاری محکموں کے منسلک ڈیپارٹمنٹس و دفاتر کے آفیسران کا ایک اجلاس گزشتہ روز ڈائریکٹر جنرل لیبر جنرل شجاع ملک گچکی کی صدارت میں منعقد ہوا ،جس میں منسلک دفاتر کو درپیش مسائل خصوصاً ایڈ منسٹریٹیو محکموں کے مقابلے میں غیر مساویانہ سلوک پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ ان منسلک دفاتر کے آفیسران نے اپنے ان مسائل کے فوری حل کیلئے ’’بلوچستان اٹیچڈ(منسلک) دفاتر آفیسرز ایکشن کمیٹی‘‘ کے نام سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ۔

اس موقع پر محکمہ لیبر سے عطاء اللہ جوگیزئی ،محکمہ جنگلات سے اسلم بزدار اور محمد امین مینگل ،محکمہ لوکل گورنمنٹ سے ڈائریکٹر جنرل ظفر زہری ،عبدالرحمن خلجی ،محکمہ زراعت سے جمعہ خان ،محکمہ زراعت سے عبدالکریم جعفر،چاکر خان بلوچ ،شوکت بلوچ ،محمد عباس ،سید حبیب اللہ شاہ ،محکمہ تعلیم سے سمیع اللہ کاسی اور حیات اللہ خان ،محکمہ لائیو اسٹاک سے ڈاکٹر فاروق ترین ،،ڈاکٹر مجیب ،محکمہ انفارمیشن سے محمد نور کھیتران ودیگر افسران موجود تھے ،آفیسران نے اس موقع پر موقف اختیار کیا کہ گزشتہ کئی سالوں سے سیکریٹریٹ (انتظامی دفاتر) و دیگر اسی نوعیت کے سیکریٹریٹس کے آفیسران کو شاہی انداز میں نوازا جارہا ہے اور انہیں مختلف الاؤئنسز کی مد میں لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ ادا کی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ انتظامی دفاتر ( سیکریٹریٹ)اپنے ماتحت دفاتر و ڈائریکٹوریٹس کے صرف انتظامی امور اور پالیسی بناتے ہیں جبکہ حکومتی پالیسی اور محکموں کے اصل امور جنہیں آپریشنل امور کہا جانا چاہیے وہ ان محکموں سے منسلک دفاتر یا ڈائریکٹوریٹ کے آفیسران و ملازمین ادا کرتے ہیں اور اس کیلئے انہیں صوبے کے دور دراز علاقوں میںٹرانسفر بھی کیا جاتا ہے۔

ان منسلک دفاتر یا ڈائریکٹوریٹ کے آفیسران و ملازمین کو وہ الائونسز یا مالی مراعات نہیں دی جارہی ہیں جو انتظامی دفاتر (مختلف سیکریٹریٹس) کے آفیسران و ملازمین کو دی جاتی ہیں۔ مثلاً ہائوس ریکوزیشن،یوٹیلٹی الائونس اور ایگزیکٹیو الائونس کو تنخواہوں میں ماہانہ ادا کیا جارہا ہے جبکہ بجٹ و دیگر مواقعوں پر ان ملازمین و آفیسران کو کیش ایوارڈ کی صورت میں مالی مراعات بھی دی جاتی ہیں۔

یہ ایسی تفریق ہے جو سراسر انسانی حقوق، آئین پاکستان اور پاکستان کے ملازمین کے امور کے قوانین و ضوابط کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔اس تفریق اور تضاد کی بناء پر منسلک دفاتر یا ڈائریکٹوریٹس کے آفیسران میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔آفیسران کے اجلاس میں اس موقف کا اعادہ بھی کیا گیا ہے کہ اگر اِن دفاتر کے ملازمین و آفیسران کی تنخواہوں میںمختلف الائونسزشامل ہیں یہ امر قابل تنقید نہیں کیونکہ اس سے غریب ملازمین کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے لیکن دیگر ماتحت اداروں کے آفیسران و ملازمین کو ان الائونسز سے محروم رکھنا نہ صرف قابل اعتراض ہے بلکہ قابل احتجاج بھی ہے۔

اس امتیازی سلوک کو حکومت فوری طور پر ختم کرکے دیگر ماتحت دفاتر ،ڈائریکٹوریٹس کے آفیسران و ملازمین کو بھی یہ الائونسز دئیے جائیں اجلاس میں اس امر پر بھی افسوس اور حیرانگی کا اظہار کیا گیا کہ انتظامی دفاتر (سیکریٹریٹ) میں ماتحت دفاتر کے آفیسران کی ترقی کیلئے مختص ٹیکنیکل کوٹے پر بھی عملدرآمد نہیں کیا جارہا ہے بلکہ بعض ماتحت اداروں و دفاتر کی اعلیٰ پوسٹیں بھی اُن محکموں سے لے کر سیکریٹریٹ کے آفیسران کو دی گئی ہیں جو ترقی کے عمل کو نہ صرف متاثر کررہی ہیں بلکہ آئین پاکستان میں دئیے گئے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

اس نوعیت کی تفریق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انتظامی دفاتر کے آفیسران اور ماتحت دفاتر کے آفیسران کے درمیان تفریق و امتیازی سلوک کو پروان چڑھا کر اِن انتظامی آفیسران کو دوسروں کے مقابلے میںاعلیٰ ترین تصور کیا جانا ہے جبکہ ماتحت دفاتر کے آفیسران و ملازمین ہی اصل میں فنی و غیر فنی حوالے سے آپریشنل فرائض سرانجام دے رہے ہیں اجلاس نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو و چیف سیکریٹری بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ ہے کہ اس تفریق و امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا جائے اور ماتحت محکموں کے و دفاتر کے آفیسران و ملازمین کو بھی انتظامی سیکریٹریٹ کے مساوی الائونسز و دیگر سروسز حقوق دئیے جائیں ۔

اجلاس نے صوبے کے تمام ماتحت دفاتر و ڈائریکٹوریٹس کے آفیسران کا ایک اجلاس 11مئی کو شام 5بجے گارڈینا ہوٹل نزد عسکری پارک طلب کیا ہے۔