البغدادی بیٹے اور داماد کے ہمراہ اپنے ٹھکانے بدلتا رہتا ہے،عراقی عہدیدار

شام میں داعش کے لیے کام کرنے والے تنظیم کے پانچ سینئر جنگجوؤں کو گرفتار کرلیا،انٹیلی جنس عہدیدارکی گفتگو

جمعرات مئی 12:23

بیروت(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) عراقی انٹیلی جنس کے ایک سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش کا سربراہ ابو بکر البغدادی شام اور عراق کی سرحد پر موجود ہے اور وہ اپنے بیٹے اور داماد سمیت پانچ افراد کے ہمراہ اپنے ٹھکانے بدلتا رہتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق عراقی انٹیلی جنس کے عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شام میں داعش کے لیے کام کرنے والے تنظیم کے پانچ سینئر جنگجوؤں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ البغدادی شام اور عراق کے درمیان سرحدی پٹی میں موجود ہے۔ دونوں ملکوں کے سرحدی علاقوں الھجین الشدادی، الصور اور مرکدہ جیسے علاقوں میں داعش کا اثرو نفوذ موجود ہے۔ ممکنہ طور پر داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی بھی انہی علاقوں میں ہے۔

(جاری ہے)

عہدیدار نے مزید کہا کہ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق ابو بکر البغدادی اور اس کے دیگر چار یا پانچ ساتھی زیادہ تر پیدل سفر کرتے ہیں اور گاڑیوں کا استعمال نہیں کرتے۔

البغدادی کے ہمراہ رہنے والوں میں اس کا بیٹا اور داماد ابو زید العراقی شامل ہے۔ جب کہ دیگر چار افراد بھی ان کے ہمراہ دیکھے گئے ہیں تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔انہوں نے کہاکہ کہ البغدادی کے قریب رہنے والے پانچ افراد شام میں داعش کی چوٹی کی 39 رکنی قیادت کا حصہ ہیں۔ ان پانچ کے علاوہ باقی تمام جنگجو شام میں فضائی حملوں میں ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں عراقی عہدیدار نے کہا کہ ہماری انٹیلی جنس کا ایک افسر داعش زیراثر علاقوں میں داخل ہونے اور البغدادی کی نقل وحرکت نوٹ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ البغدادی اور اس کے پانچ رکنی مقرب گروہ میں ان کا داماد ابو زید عراقی بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ تین ماہ تک مسلسل نگرانی کے بعد ایک مشکل آپریشن میں البغدادی کے پانچ ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس کارروائی کا شامی حکومت کو کوئی علم نہیں۔ گرفتار ہونے والے داعشی جنگجوؤں میں اردن، شام اور خلیجی ممالک کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں مطلوب صدام الجمل بھی شامل ہے۔

متعلقہ عنوان :