92سالہ مہاتیر محمدکا دنیا کے معمر ترین منتخب رہنما ہونے کا اعزاز

جمعرات مئی 19:29

کوالالمپور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) 92 سالہ مہاتیر محمدنے دنیا کے معمر ترین منتخب رہنما ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملائیشیا کے انتخابات میں بانوے سالہ مہاتیر محمد کے اتحاد نے حکومتی اتحاد کو شکست دے دی ہے۔ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد اور ان کی اتحادی جماعتوں نے ملائیشیا کے قومی انتخابات میں ساٹھ سال سے بلاتعطل برسراقتدار جماعت باریسان نیشنل پارٹی کو شکست دے کر سب کو حیرت میں ڈال دیا۔

ملائیشین وزیر اعظم نجیب رزاق کی جماعت باریسان نیشنل سن 1957 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے ملائیشیا میں برسراقتدار تھی۔حالیہ عرصے کے دوران نجیب رزاق پر بدعنوانی اور اقربا پروری کے الزامات کے باعث ان کی جماعت کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی تھی۔

(جاری ہے)

مہاتیر محمد بائیس برس تک ملائیشیا کے وزیر اعظم رہنے کے بعد سیاست سے کنارہ کش ہو چکے تھے لیکن انہوں نے سیاست میں واپسی کا فیصلہ کرتے ہوئے ملکی اپوزیشن اتحاد کی قیادت سنبھالتے ہوئے رزاق کے خلاف انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ملائیشیا کے سنسر حکام کے مطابق یہ فلم ’محض ایک مخصوص نسل کے افراد کے استحقاق اور اًقدار‘ کی عکاس تھی اور یہ ’ایک طرح کا پراپیگنڈا تھی، جس کا مقصد ایک نسل کے افراد کے لیے ہمدردی اور دوسری نسل کے افراد کی ساکھ خواب کرنا تھی‘۔ بعد میں یہ پابندی ہٹا دی گئی اور متعدد پٴْر تشدد اور برہنہ مناظر کاٹ کر محض ایک ڈی وی ڈی ویژن کی اجازت دی گئی، جس پر فلم کے ڈائریکٹر اسٹیون اسپیل برگ خاصے برہم اور آزردہ تھے۔

اب تک کے نتائج کے مطابق مہاتیر محمد اور ان کی اتحادی جماعتوں نے گزشتہ روز ہونے والے انتخابات میں 121 نشستیں حاصل کر لی ہیں، جب کہ حکومت بنانے کے لیے انہیں 112 نشستیں درکار تھیں۔ دوسری جانب باریسان نیشنل کو محض 79 نشستیں حاصل ہو سکیں جب کہ گزشتہ انتخابات میں اسے 133 نشستیں حاصل تھیں۔انتخابات میں کامیابی کے باوجود ملائیشیا کے بادشاہ نے حسب روایت فوری طور پر مہاتیر کو حلف اٹھانے کی دعوت نہیں دی تھی جس کے بعد سیاسی بے یقینی کی صورت حال پیدا ہوئی۔ تاہم مہاتیر محمد کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر کچھ آئینی شقوں کی وضاحت نہ ہونے کے باعث پیدا ہوئی تھی۔

متعلقہ عنوان :