پراونشل سروسز اکیڈیمی پشاور میں زیر تربیت پراونشل مینجمنٹ سروس کے 52رکنی وفد کا سنٹرل پولیس آفس پشاور کا دورہ

حکام نے پولیس کے تنظیمی ڈھانچے، جرائم کی شرح، پولیس کی کارکردگی اور ہونیولی اصلاحات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی

جمعرات مئی 20:22

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) پراونشل سروسز اکیڈیمی پشاور میں زیر تربیت پراونشل مینجمنٹ سروس کے 52رکنی وفد نے کل سنٹرل پولیس آفس پشاور میں خیبر پختونخوا پولیس سے متعلق ایک بریفنگ میں شرکت کی وفد کی قیادت میجر حارث خان خٹک کر رہے تھے، وفد کے ارکان کو نقشوں اور چارٹوں کی مدد سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وفد کے ارکان کو صوبے کے مخصوص جغرافیائی محل وقوع، پولیس کے تنظیمی ڈھانچے، جرائم کی شرح، پولیس کی کارکردگی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا۔

انہیں پولیس کے حالات کار،، پولیس کے مشن، درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل اور پولیس میں متعارف شدہ اصلاحات کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئیں۔ انہیں خوف اور جرائم سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے پولیس کی کاوشوں کے بارے میں بھی بتایا گیا۔

(جاری ہے)

وفد کے ارکان کو پولیس میں اب تک کے ادارہ جاتی اصلاحات جن میں کائونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ، ریپڈ رسپانس فورس، کے 9 یونٹ، تمام ہیڈ کوارٹرز میں بم ڈسپوزل یونٹ کے قیام، پشاور اور سوات میں فورنزک سائنس لیبارٹریوں، وہیکل ویری فیکیشن سسٹم، جیو ٹیگنگ، کرائے کی عمارتوں کے لیے بنایا گیا قانون، ڈسپیوٹ ریزلوشن کونسلز، پولیس اسسٹنس لائنز، مختلف سپشلائزڈ سکولوں کے قیام، نیشنل ٹسٹنگ سروس کے ذریعے پولیس بھرتیوں اور اہلکاروں کی فاسٹ ٹریک پروموشن سسٹم شامل ہیں کے بارے میں تفصیل سے بریفنگ دی گئی۔

شرکاء کو نئے نافذ کردہ پولیس ایکٹ2017 کے خدوحال کے بارے میں بھی بریف کیا گیا۔ وفد کے ارکان کو پولیس ایکٹ پر مکمل عمل درآمد ، اس کے تحت صوبے میں مختلف سیفٹی کمیشن ، کمپلینٹ اتھارٹیزاور کمیٹیوں کے قیام ، عوام کی بہتر خدمت، اچھی پولیسنگ اور پولیس کی استعدادی صلاحیتیں بڑھانے کے حوالے سے بھی بتایا گیا۔وفد کے شرکاء نے بریفنگ میں گہری دلچسپی لی اور خیبر پختونخواپولیس سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرنے پر آئی جی پی صلاح الدین خان محسود کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے تفصیلی بریفنگ کی روشنی میں کئی ایک سوالات جو فاٹا میں پولیسنگ، تھانوں کی سطح پر پولیس بجٹ،، ریسرچ اینلاسز ونگ، پولیس کی استعداد کار،، چیک پوسٹوں کی نگرانی واپس پولیس کو دینا،،پولیس میں سیاسی عدم مداخلت،،پولیس تشدد اور ایلیٹ فورس اور تفتیشی شعبہ جات کی کارکردگی سے متعلق تھے بھی پوچھے ۔جن کے آئی جی پی نے مفصل جوابات دیئے۔

وفد کے شرکاء نے وسائل اور نفری کی کمی اور ناموافق جغرافیائی صورتحال کے باوجود پولیس کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے کی کارکردگی اورپولیس اصلاحات کی تعریف کی۔ اس موقع پر شیلڈز کا تبادلہ بھی ہوا۔ بعد ازاں وفد کے ارکان نے پولیس ایکسس سروس ، ڈاس، پولیس اسسٹنس لائن، آئی ٹی سنٹر اور پولیس کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا دورہ بھی کیا۔