کانگو میں ایبولہ وائرس سے مزید 17 افراد ہلاک

جمعرات مئی 23:42

کنشاسا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) افریقی ملک کانگو میں ایک بار بار پھر مہلک ایبولا وائرس کی وبا پھوٹنے کے نتیجے میں اب تک 17 افراد ہلاک ہوچکے ہیں،غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افریقی ملک ڈیمو کریٹک ری پبلک کانگو میں ہلاکت خیز ایبولا وائرس نے ایک بار پھر سر اٹھالیا ہے اور حکام نے اس وبا کے نتیجے میں 17 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے،دارالحکومت کنشاسا سے جاری ہونے والے بیان اور رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایبولا وائرس جو ماضی میں بھی متعدد شہریوں کی ہلاکتوں کا باعث بنا تھا ایک بار پھر ڈیڑھ درجن انسانوں کی جان لے چکا ہے جن میں سے زیادہ تر ہلاکتیں شمال مغربی شہر بیکورو میں ہوئیں۔

کانگو کے محکمہ صحت نے ایبولا کے نتیجے میں ہونے والے ہلاکتوں پر بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شروع میں شہر بیکورو میں وائرس کی نئی وبا سے 2 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق نیشنل بائیولوجیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے کی اور مشتبہ طور پر اس وائرس کی وجہ سے بیمار ہونے والے شہریوں کی تعداد 10 بتائی گئی تاہم چند گھنٹے بعد ہی شہر کی محکمہ صحت سے تصدیق ہوئی کہ ایبولا وائرس کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد اب 17 ہو گئی ہے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ کانگو میں مجموعی طور پر یہ 9 واں موقع ہے کہ وہاں ایبولا وائرس کی وجہ سے شہری ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ پہلی بار اس وائرس کا انکشاف 1970ء کی دہائی میں ہوا تھا اور اس انتہائی ہلاکت خیز جرثومے کو مشرقی کانگو میں دریائے ایبولا کی نسبت سے اس کا نام دے دیا گیا تھا۔وائرس کے پھیلاؤ نے زیادہ تر اسی دریا کے ساتھ ساتھ واقع علاقوں کو متاثر کیا تھا۔ اس مہلک وائرس کی آخری اور انتہائی ہلاکت خیز وبا 2 برس قبل وسطی افریقا میں دیکھنے میں آئی تھی، جب یہ جان لیوا جرثومہ ساڑھے 11 ہزار افراد کی ہلاکت کا سبب بنا اور تقریباً 29 ہزار متاثر ہوئے تھے۔ وائرس کی وبا کا سب سے زیادہ سامنا گنی، سیر الیئون اور لائبیریا جیسے ممالک کو کرنا پڑا تھا۔

متعلقہ عنوان :