خیبر پختونخواہ کی تعلیمی پالیسی کا پول کھل گیا

خیبر پختونخواہ میں ہر چوتھا بچہ سکول سے باہر ہے،رپورٹ منظر عام پر آ گئی

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعرات مئی 21:37

خیبر پختونخواہ کی تعلیمی پالیسی کا پول کھل گیا
پشاور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار - 10 مئی 2018ء ) : خیبر پختونخواہ کی تعلیمی پالیسی کا پول کھل گیا۔ خیبر پختونخواہ میں ہر چوتھا بچہ سکول سے باہر ہے۔لاکھوں بچے سکول سے باہر،رپورٹ منظر عام پر آ گئی۔ تفصیلات کے مطابق شہریوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی رہاست کی ذمہ داری ہے ۔اس حوالے سے یہ بات ریاست پر عائد ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرنے کے لیے مناسب اقدامات اٹھائے۔

آئین پاکستان کے مطابق وہ بنیادی چیزیں جن کی مفت فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے ان میں سے ایک تعلیم بھی ہے۔تاہم اگر باریکی سے اس معاملے کو دیکھا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں حکومت اس حوالے سے مکمل ناکام ہو چکی ہے۔یہ حکومتی غفلت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہیں ۔

(جاری ہے)

جب حکومت اپنی غفلت کے سبب اپنے شہریوں کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہی ہے تو نجی شعبے نے اس میدان میں قدم رکھ دیا ہے۔

اس وقت ملک کے طول و عرض میں لاکھوں نجی سکول ،کالجز اور یونیورسٹیز کام کر رہے ہیں۔تا ہم اتنے بڑی تعداد میں نجی تعلیمی ادارے ہونے کے باوجود بچوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں۔باقی صوبے ایک جانب تبدیلی کا نعرہ لگانے والی تحریک انصاف بھی خیبر پختونخواہ میں بنیادی تعلیم شہریوں کو مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے۔صوبہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کے پی حکومت نے سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد معلوم کرنے کے لئے سروے کروایا۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ کا تقریباً ہر چوتھا بچہ سکول سے باہر ہے۔ اس وقت 60 لاکھ 17 ہزار بچے سکولوں میں زیر تعلیم ہیں جبکہ 18 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ سکولوں سے باہر بچوں کی شرح 23 فیصد ہے۔ سکولوں سے باہر بچوں میں 11 لاکھ 88 ہزار بچیاں اور چھ لاکھ 12 ہزار لڑکے ہیں۔ن بچوں میں 11 لاکھ 52 ہزار ایسے بچے بھی شامل ہیں جو زندگی میں کبھی سکول نہیں جا سکے۔ چھ لاکھ 48 ہزار بچے سکول میں داخل تو ہوئے اور بعد میں سکول چھوڑ دیا۔