بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ مشاورت کے بعد فارماکووجیلینس سنٹر کے قیام کے لیے لائحہ عمل طے ،

ڈریپ وفاقی حکومت کے تحت ایک مکمل فعال پی وی سینٹر بنایا جائیگا، یہ ڈریپ اور صوبائی سطح پر علاقائی پی وی مراکز کے ساتھ منسلک ہوگا، ترجمان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان

جمعہ مئی 18:12

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) دریپ نے فارماکووجیلینس (PV)سنٹر کے قیام کے لیے لائحہ عمل طے کر لیا، بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ طے کیا گیا کہ وفاقی حکومت کے تحت ایک مکمل فعال (PV) سینٹر بنایا جائیگا جو کہ ڈریپ اور صوبائی سطح پر علاقائی پی وی مراکز کے ساتھ منسلک ہوگا۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے ترجمان کے مطابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ، ڈریپ اور یونائیٹداسٹیٹس فارماکوپیا(USP) کے ماہرین ((ڈاکٹر سولی فانووانگ اور ڈاکٹر راشدہ سلیمانی) کے درمیان ایک میٹنگ ڈریپ آفس میں منعقد ہوئی، جس میں فارماکووجیلینس (PV)سنٹر کے قیام کے لیے لائحہ عمل طے کر لیا گیا ہے پہلے مرحلے میں ٹرشری کئیر نجی ہسپتال مضر اثرات کی رپورٹنگ کر سکیں گے۔

یہ بھی طے کیا گیا کہ نیشنل فارماکوویجیلینس کمیشن اور مشاورتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کے زیرنگرانی پی وی امور سر انجام دیئے جائیں گے اور ہر ممکنہ کوشش کی جائیگی کہ پی وی رولز2018؁ئ کو فیڈرل گورنمنٹ سے جلد سے جلد منظور کرایا جائے گا تاکہ(PV) کو قانونی تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

(جاری ہے)

دریں اثناء ایک درخواست پی وی سنٹر کی رجسٹریشن کے لیے دی جائیگی تاکہ ڈبلیو ایچ او پی وی سنٹر ، اپسلا سویڈن کی مکمل ممبر شپ حاصل کی جا سکے۔

ڈاکٹر سولی اور ڈاکٹر راشدہ سلیمانی نے ڈریپ کی طرف سے تیارکردہ آن لائن رپورٹنگ فارم کو سراہا اور اس کا افتتاح کیا ۔ یہ رپورٹنگ فارم ڈریپ کی ویب سائٹ پر موجود ہے اور اس میں مریض ، صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ پیشہ ورانہ افراد اور ادویہ ساز کمپنیوں کی مضر اثرات رپورٹ کرنے کا طریقہ موجود ہے۔ سی ای او ڈریپ نے حتمی کلمات میں بین الاقوامی ماہرین کا اپنا علم اور تجربہ بانٹنے کا شکریہ ادا کیا ۔ مزید برآں ڈاکٹر راشدہ سلیمانی سے آئندہ دو سے تین سال کے لیے فارماکووجیلینس کا لائحہ عمل مرتب کرنے کے لیے درخواست کی تاکہ بروقت مضر اثرات کا تدارک کیا جا سکے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈریپ WHO, PV Centre اپسلا سویڈن کی مکمل ممر شپ کے لیے مناسب وقت پر درخواست دے گا۔

متعلقہ عنوان :