قصور میں ’’لیگل فریم ورک آف چائلڈ پروٹیکشن و ہینڈلنگ آف چائلڈ ابیوز کیسزز ‘‘ پر ورکشاپ کا اہتمام

بچوں میں جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،صباء صادق

جمعہ مئی 21:56

قصور۔11 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) ڈسٹرکٹ پولیس آفس قصور میں نیشنل کمیشن فار ہیومین رائٹس کے زیر اہتمام اورچیف کمشنر چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو صبا صادق کی زیر صدارت ’’لیگل فریم ورک آف چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ہینڈلنگ آف چائلڈ ابیوز کیسزز ‘‘ کے عنوان پر ایک روز ہ ورکشاپ کا انعقاد ہوا، جس میں ممبر نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کشور شاہین اعوان،افتخار مبارک ایگزیکٹو ڈائریکٹر سرچ فار جسٹس(انجیو)،عظمیٰ عاشق سائیکالوجسٹ،سینئر ضلعی پولیس افسران اورممبران چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے شرکت کی،ورکشاپ کے دوران بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کے قوانین کی ترامیم ، چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ورک،کریمنل لائ(ترمیم ایکٹ2016ئ)کے متعلق آگہی، جونائل جسٹس سسٹم آرڈیننس 2000ء کی بنیادی خصوصیات،بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کے مقدمات کے چالان، قانونی سقم سے پاک کرکے عدالتوں میں جمع کرانے کے طریقہ کار اورجنسی تشدد سے بچوں کی شخصیت پر اثرات کے متعلق بتایا گیا ،ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے صباء صادق نے کہا کہ بچوں میں جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، حکومت نے ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے ہیں ،انہوں نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ممبران اور پولیس افسران کو ہدایت کہ وہ سکول اور کالجزکے دورے کریں، جنسی تشدد کی روک تھام کیلئے والدین اور اساتذہ بچوں کی تعلیمی و غیر نصابی سرگرمیوں ،مختلف لوگوں کے بارے میں بچوں کی پسند وناپسند،دوستوں کے انتخاب اور جاننے والے لوگوں کیساتھ ان کے تعلقات پر گہری نظر رکھیںاور زیر تعلیم بچوںکو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کے متعلق بتائیں تاکہ بچوں میں اپنی حفاظت آپ کرنے کا جذبہ پیدا ہوسکے ،انہوں نے کہا بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ہم سب کوملکرمشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی ،آپ آفیسرز ،عوامی نمائندوں،ممبران سول سوسائٹی،،میڈیا،انجمن تاجران،علماء واساتذہ کرام سمیت زندگی کے ہر مکتبہ فکرسے خود رابطہ کرکے ان کی معاونت حاصل کریں، ورکشاپ کے آخر میں شرکت کرنے والے پولیس افسران میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی طرف سے سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کئے گئے ۔