ٹرمپ انتظامیہ کا ایران میں نظام کی تبدیلی کامنصوبہ ،مظاہروں کو ہوادینے کا فیصلہ

تین صفحات پر مشتمل اس پلان کے بارے میں وائیٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کمیٹی میں بحث بھی جاری

اتوار مئی 11:10

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) امریکی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ ایران میں نظام کی تبدیلی کے ایک نئے پروگرام پرغور کررہی ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق امریکی انتظامیہ اور امریکا کی قومی سلامتی نے ایران میں نظام کی تبدیلی کے لیے ایک نئی اسکیم تیار کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ایران میں پرامن جمہوری تبدیلی کے لیے کوشاں مختلف اقوام اور قوتوں کی مدد کرنا، ایران میں عوامی انتفاضہ کو سپورٹ کرنا اور عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے میں ان کی مدد کرنا ہے۔

امریکی ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی انتظامیہ کے ایران میں تبدیلی کے حوالے سے پلان کی نقل حاصل کی ہے۔ تین صفحات پر مشتمل اس پلان کے بارے میں وائیٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کمیٹی میں بحث بھی جاری ہے۔

(جاری ہے)

اس اسکیم میں ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے ایران میں تبدیلی کے ممکنہ پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ امریکا ایرانی قوم کو کس طرح ملائیت کی متشدد حکومت کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرسکتا ہے۔

ایران میں نظام کی تبدیلی کا امریکی منصوبہ سیکیورٹی اسٹڈی سینٹر گروپ (ایس ایس جی)کی طرف سے تیار کیا گیا ۔ یہ گروپ امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے زیرانتظام ایک تھینک ٹینک کے طورپر کام کرتا ہے اور اس کے وائیٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کونسل کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ ان میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن بھی شامل ہیں جو ایران کے حوالے سے طویل المیعاد امریکی پالیسی تشکیل دینے پر زور دے رہے ہیں۔

2009ء میں جب ایران میں حکومت کے خلاف عوام سڑکوں پرآئے تو اس وقت بھی ایران میں نظام کی تبدیلی کا مطالبہ کیا مگر اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے اس تجویز کی مخالفت کی تھی۔پورٹ کے مطابق اگرامریکا ایران میں عوام کے ذریعے نظام کی تبدیلی کی کوشش کرتا ہے تو ایسی صورت میں تہران کے خلاف فوجی کارروائی کا امکان کم ہوجائے گا۔ایسی ایس جی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی عوام ابتر معاشی حالات کا سامنا کررہے ہیں۔ حکومت وسائل کا ایک بڑا حصہ اپنے توسیع پسندانہ عزائم اور بیرون ملک عسکری منصوبوں پر خرچ کررہی ہے۔