ایران نے بازی پلٹ دی، امریکا کیخلاف ایسی چال چل دی جس کی کسی کو توقع نہ تھی

جوہری معاہدے کا تسلسل ایران کے مفادات کی فراہمی پر منحصر ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم کسی بھی صورتحال کے سامنے کے لئے تیار ہیں،چین ہماراسب سے بہترین شراکت داری ملک ہے، جوہری معاہدے سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات قائم ہیں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی بیجنگ ائیر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو

اتوار مئی 18:20

ایران نے بازی پلٹ دی، امریکا کیخلاف ایسی چال چل دی جس کی کسی کو توقع ..
بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ صدر مملکت کے بیانات کے مطابق، ہم کسی بھی صورتحال کے سامنے کے لئے تیار ہیں،جوہری معاہدے کا تسلسل ملکی مفادات کی فراہمی پر منحصر ہے، چین ہماراسب سے بہترین شراکت داری ملک ہے، جوہری معاہدے سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات قائم ہیں۔ اتوار کو ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اپنے چینی ہم منصب 'وانگ ای' اور حکام کے ساتھ جوہری معاہدے پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے بیجنگ پہنچ گئے جہا ں پر چین میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر 'علی اصغر خاجی' نے چینی ائیرپورٹ میں ظریف کا استقبال کیا۔

بیجنگ ائیرپورٹ پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہ جواد ظریف نے چین،، روس اور یورپ کے دورے کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اس ممالک کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہیں جو جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد ایسے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

(جاری ہے)

ظریف نے کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے کے بعد یورپی یونین اپنی مسلسل درخواستوں کے ساتھ عالمی معاہدوں میں ایران کے شامل رہنے پر زور دے رہا ہی.انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کو ضمانت دینا چاہیئے کہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے باوجود ایرانی قوم کے مفادات فراہم ہوجائے گا.انہوں نے کہا کہ امریکہ کے حالیہ اقدام کے بعد یورپی ممالک کے اہم اقدام ایران کے مفادات کی فراہمی کی ضمانت دینا ہی.انہوں نے چین کے دورے سے اپنے مقاصد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کرکے ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے پر تبادلہ خیال کریں گی.ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جوہری معاہدے سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات قائم ہیں اور چین ہماراسب سے بہترین شراکت داری ملک ہے۔

ظریف نے صدر روحانی کے حکم پر جوہری معاہدے کے دوسرے فریقین کے ساتھ مذاکرات کے لئے چین،، روس اور بیلجیم کے دورے کا آغاز کیا.ایرانی وزیر خارجہ چین کے دورے کے بعد روسی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لئے ماسکو کا دورہ کرکے منگل کے روز برسلز میں فرانس،، جرمن اور برطانوی ہم منصبوں اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ 'فیڈریکا مغرینی' کے ساتھ مشترکہ نشست میں شرکت کرے گا۔