چینی رضا کاروں کا زمینی خلائی لیبارٹری میں ایک سال گزارنے کا ریکارڈ

رضاکاروں میں2 طلباء اور 2 طالبات شامل تھیں ،کامیاب تجربے پر ماہرین کا پرجوش خیر مقدم ٹیکنالوجی کا ایک بڑا نازک ٹیسٹ تھا جس میں انسان کو چاند پر طویل عرصہ قیام کیلئے تیار کرنا تھا

منگل مئی 23:24

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) چینی رضا کاروں نے بیجنگ میں خلائی لیبارٹری کے مشابہ کیبن میں ایک سال رہنے کا ٹیسٹ مکمل کر لیا ہے ،انہوں نے کنٹینر میں رہنے کا طویل ترین نیا ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ تفصیلا ت کے مطابق چار طلباء جن میں دو طالبات شامل تھیں ،وہ یوئی گانگ ون یا چاند محل میں داخل ہوئیں ، ان کا تعلق بائی ہینگ یونیورسٹی بیجنگ سے تھا ۔

ان کی واپسی پر ماہرین تعلیم ،محققین اور ساتھی طلباء نے تالیاں بجا کر ان کا پرجوش خیر مقدم کیا ۔یہ ٹیسٹ گزشتہ 10 مئی کو شروع ہوا تھا جس کی ڈیزائنر لیو ہانگ کا کہنا ہے کہ یہ ٹیسٹ طویل قیام کیلئے تیار کیا گیا تھا جسے نئی زندگی کے حصول کے بی ایل ایس ایس سسٹم کا نام دیا گیا تھا ۔جس میں انسانوں ،جانوروں ،پودوں اور چھوٹے جراثیم کو چاند کی سطح سے ملتے جلتے ماحول میں زندہ رکھنے کیلئے تجربات کرنا مقصود تھا ۔

(جاری ہے)

اس سسٹم کے تحت پانی ،خوراک اور دیگر چیزوں کے استعمال کیلئے زمین کی طرح ماحول تیار کرنا تھا۔ یہ نظام 98فیصد خودکار ہے اور یہ خلاء میں جانے والوں کیلئے مستحکم اور مؤثر زندگی کا تعاون فراہم کرتا ہے ۔ لیو ہانگ نے مزید کہا کہ اس تجربے کیلئے 8رضا کاروں کا انتخاب کیا گیا تھا جو تمام بائی ہینگ یونیورسٹی سے تعلق رکھتے تھے ،انہیں اس کیبن میں رکھا گیا جو 150مربع میٹر پر بنا ہوا تھا ۔

یہ ٹیکنالوجی کا ایک بڑا نازک ٹیسٹ تھا جس میں انسان کو چاند پر طویل عرصہ قیام کیلئے تیار کرنا تھا تاکہ زمین کی سطح سے باہر بھی وہ زندہ رہ سکیں ۔ اس تجربہ کے بعد اب سائنسدان ان رضا کاروں کی جسمانی اور ذہنی حالت کا جائزہ لیں گے اور ان کے مطالعہ کے نتائج پر کام کریں گے جنہیں خلائی لیبارٹری ، چاند اور مریخ میں تحقیقات کیلئے مستقبل میں استعمال کیا جا سکے گا ۔ اس سے قبل سوویت یونین کے تین افراد ایسے ہی کیبن میں 180دن گزار چکے ہیں ۔ اس طرح چینی رضا کاروں نے خلائی لیبارٹری سے مشابہ کیبن میں ایک سال گزارنے کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے ۔