بلدیہ عظمیٰ نے کروڑوں روپے کا ریونیو دینے والی شہر کی چارجڈ پارکنگ سائٹس کوکوڑیوں کے مول نیلام کردیا

ہفتہ مئی 22:41

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 مئی2018ء) بلدیہ عظمیٰ نے کروڑوں روپے کا ریونیو دینے والی شہر کی چارجڈ پارکنگ سائٹس کوکوڑیوں کے مول نیلام کردیا۔ٹھیکیدار مافیا کے مابین پول ہونے کا انکشاف ہوا ہے، کے ایم سی کو کروڑوں روپے کا مبینہ خسارے کا سامنا ہے باوثوق ۔ذرائع کے مطابق بلدیہ عظمیٰ نے ازسر نو چارجڈ پارکنگ کے ٹھیکوں کی گزشتہ دنوں نیلامی کی جس میں ضلع کی سطح پر ٹھیکے دیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چارجڈ پارکنگ ٹھیکیداروںکی منظم مافیا نے نیلامی کے موقع پر بلدیاتی افسران کو چت کردیا اور کروڑوں روپے کا ریونیو دینے والی پارکنگ سائٹس کو انتہائی کم ریٹ میں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے محکمہ چارجڈ پارکنگ میں کئی سال سے براجمان بعض افسران اور ٹھیکیداروں کے مابین زبردست گٹھ جوڑ قائم ہے اور اسی گٹھ جوڑ کے ذریعے ایک بار پھر بلدیہ کراچی کو کروڑوں روپے کے ریونیو سے محروم کردیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع شرقی جس میں طارق روڈ ، یونیورسٹی روڈ سمیت دیگر اہم علاقے شامل ہیں مذکورہ ضلع کو صرف ایک کروڑ 6لاکھ 10ہزار روپے سالانہ کے عوض نیلام کیا گیا ہے۔اسی طرح ضلع وسطی کی تمام پارکنگ سائٹس صرف 90لاکھ روپے سالانہ کے عوض نیلام کردی گئی ہیں ، ضلع جنوبی کی سائٹس 42لاکھ روپے جبکہ کورنگی موبائل مارکیٹ کی پارکنگ سائٹس صرف ساڑھے 4 لاکھ روپے سالانہ پر نیلام کی گئی ہے تاہم صرف کلفٹن بیچ پارک کی سائٹس کو اچھے ریٹ میں نیلام کیا گیا جو کہ 2کروڑ روپے سالانہ کے عیوض نیلام ہوئی ہے۔

بلدیہ کراچی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کی پارکنگ سائٹس کو کوڑیوں کے مول میں نیلام کیا گیا ہے جس کی ابھی کونسل سے منظوری لینا باقی ہے۔دوسری جانب شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتی خزانے کو چند لاکھ کا ریونیو دیکر پارکنگ مافیا شہر بھر میں اوور بلنگ کے ذریعے کروڑوں روپے کی لوٹ مار کررہی ہے، شہریوں نے منتخب اراکین کونسل سمیت میئرکراچی سے مذکورہ نیلامی کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے چارجڈ پارکنگ کے نام پرکی جانے والی لوٹ مار کا سختی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔