کاشتکارغلہ کو محفوظ ر کھنے کے لے بروقت حفاظتی اقدامات کر یں،زرعی ماہرین

اتوار مئی 13:30

قصور۔20 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) زرعی ماہرین نے کاشتکاروں کو خبردارکیاہے کہ دودرجن کیڑے ذخیرہ شدہ غلہ کو گوداموں‘کوٹھیوں اور بھڑولوں میں نقصان پہنچاتے ہیں ‘کیڑوں کیوجہ سے سالانہ ذخیرہ شدہ غلہ کا نقصان 5سی15فیصد تک ہے‘ کاشتکار بروقت حفاظتی اقدامات سے غلہ کو محفوظ اور غذائی تحفظ کویقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ گوداموں اورگھروں میں زرعی اجناس گندم‘ چاول ‘مکئی‘چنا‘ آٹا اور ان کی دیگر مصنوعات ذخیرہ کی جاتی ہیں ‘صوبہ پنجاب میں ملکی ماہرین کے اندازے کی مطابق ہرسال5سے 15فیصد غلہ ان کیڑوں کی نذرہوجاتاہے اس مجموعی نقصان کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایاجاسکتاہے کہ اگرہم ملک میں پیداشدہ غلہ کو ان موذی کیڑوں کے حملے سے بچاسکیں تو ہم اپنی خوراک کی ضرورت کے علاوہ بیرونی اسلامی ممالک کی ضروریات کو بھی پوراکرسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ذخیرہ شدہ غلہ کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں میں کھپرا‘گندم کی سُسری‘آٹے کی سُسری ‘سونڈ والی سُسری ‘ گندم کا پروانہ اور ہندی پتنگہ کے علاوہ چوہے بھی شامل ہیں‘ غلہ کو نقصان پہنچانے والے یہ نقصان رساں کیڑے عموماً گوداموں میں پڑی ہوئی استعمال شدہ بوریوں میں موجود ہوتے ہیں جب غلہ بھرنے کیلئے ان بوریوں کو دوبارہ استعمال میں لایا جاتاہے تو یہ کیڑے غلہ میں مل جاتے ہیں بعض اوقات جب نئی بوریوں کو گوداموں میں پرانی بوریوں کیساتھ رکھاجاتاہے تو یہ کیڑے نئی بوریوں میں منتقل ہوجاتے ہیں اوراپنی نسل بڑھاکر ذخیرہ شدہ غلہ کے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :