محکمہ زراعت نے خمیرہ چارہ بنانے کیلئے جوار اور مکئی کی انواع کے ارتقاء کے منصوبہ پر کام شروع کر دیا

پیر مئی 17:10

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) محکمہ زراعت نے خمیرہ چارہ بنانے کے لئے جوار اور مکئی کی انواع کے ارتقاء کے ایک منصوبہ پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کی کل مالیت 9.158ملین روپیہے اور سال 2018کے لئے 2.166ملین روپیمختص کئے گئے ہیں۔ تین سال کا یہ منصوبہ سرگودھا، فیصل آباد اور شیخوپورہ کے لئے ہے۔ اس منصوبے کا مقصد لوسرن، برسیم، جوار، مکئی کے جًرم پلازم کا حصول اور ان کو چارے اور بیج کی پیداوار کی بنیاد پرجانچنا، چارے کو محفوظ کرنے کیلئے جوار، مکئی ،لوسرن اور برسیم کی لائنوں کے غذائی اجزاء کا تجزیہ کرنا، خمیرہ چارہ (سائیلج)کیلئے جوار، مکئی اور خشک چارہ کیلئے لوسرن اور برسیم کی نئی انواع بنانا اور جوار، مکئی ،لوسرن اور برسیم کے بیج کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی مرتب کرنا ہے۔

(جاری ہے)

اس منصوبے کے تحت جواراور مکئی کے جًرم پلازم کو خمیرہ چارہ(سائیلج) کے خواص کی بنیاد پر جانچنے کے بعد دو بہترین لائنوں کو خمیرہ چارہ(سائیلج)بنانے کے لئے منتخب کیا گیا ہے جس سے نئی قسم تیار ہو گی، لوسرن اور برسیم کے جًرم پلازم کو خشک چارہ کے خواص کی بنیاد پر جانچنے کے بعد ہر ایک کی دو لائنوںکوخشک چارہ بنانے کے لئے منتخب کیا گیاجس سے نئی قسم تیار ہو گی۔

جوار، مکئی ،لوسرن اور برسیم کے بیج کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی بنانے کیلئے دو سال کے تجربات مکمل ہو گئے ہیں اور تیسرے سال کے تجربات کئے جا رہے ہیں جس کے بعد بیج پیدار کرنے کی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے گی اور خمیرہ چارہ (سائیلج) تیار کرنے کے طریقوں پر کسان میلہ منعقد کیا جا چکا ہے جس میں تقریباً دو سو سے ذیادہ زمینداروں نے شرکت کی۔

متعلقہ عنوان :