انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عدلیہ مخالف تقاریر کیس میں 32 ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کر لی

پیر مئی 23:15

لاہور۔21 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی2018ء) لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عدلیہ مخالف تقاریر کیس میں 32 ملزمان کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی جبکہ پانچ ملزموں کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری مسترد کر دی۔ عدالت نے مقامی ایم این اے اور ایم پی اے سمیت دو ملزموں کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری 23 مئی تک منظور کر لی۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں عدلیہ مخالف تقاریر کیس کی سماعت ہوئی۔ قصور کے ایم این اے وسیم اختر شیخ اور ایم پی اے نعیم صفدر انصاری نے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں درخواست ضمانت قبل از گرفتاری دائر کی تھی۔ جبکہ عدالت نے دیگر 37 ملزموں کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر بھی سماعت کی۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج جاوید اقبال وڑائچ نے ملزموں کی درخواست ضمانت پر سماعت کی دوران سماعت عدلیہ مخالف تقاریر کرنے والے ملزمان کی درخواست ضمانت پر پراسیکیوٹر عبدالروف وٹو نے دلائل دیے۔

(جاری ہے)

پراسکیوٹر عبدالروف وٹو نے عدالت کو بتایا کہ نامزد ملزمان نے 13 اپریل کو قصور کشمیر چوک پر، احتجاجی مظاہرہ کیا اور احتجاج کے دوران اداروں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بازی کی۔ وکیل صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزموں کے خلاف سازش کے تحت مقدمہ درج کیا گیا عدالت ملزموں کے خلاف درج مقدمہ سے انسداد دہشت گردی کی خصوصی دفعات کو ختم کرنے کا حکم جاری کرے۔

ملزمان وحید، فراز ، عبدالحمید، اعجاز ، عمران ، الیاس ، غلام یسین ، محمد رزاق ، اسرار، مبارک سمیت 37 ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔ عدالت نے عدلیہ مخالف تقاریر کیس میں 32 ملزمان کی درخواست ضمانت بعداز گرفتاری منظورکر لی اور دیگر ملزموں جمیل خاں ، ناصر خان ، لیاقت ، امیر حمزہ اور سردار سمیت پانچ ملزموں کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔عدالت نے ایم این اے اور ایم اپی اے سمیت چار ملزموں کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری 23 مئی تک منظور کر لی۔