اعلیٰ تعلیمی سیکٹر کی بدولت ملک کو علم پر مبنی معیشت کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے،

سی پیک کے میگا پراجیکٹ میںاعلیٰ تعلیمی مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پاک۔ یو ایس نالج کوریڈور اور یو۔کے پاکستان نالج گیٹ وے جیسے منصوبوں کا اجراء کیا گیا ہے جبکہ پاک۔روس نالج پلیٹ فارم کا بھی آغاز کیا جائے گا وفاقی وزیر برائے داخلہ، پلاننگ، ڈویلپمنٹ اور ریفارم احسن اقبال کا ہائر ایجوکیشن سیکٹر کے پراجیکٹس کے حوالے سے وائس چانسلرز کے اجلاس سے خطاب

منگل مئی 16:06

اعلیٰ تعلیمی سیکٹر کی بدولت ملک کو علم پر مبنی معیشت کی راہ پر گامزن ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) وفاقی وزیر برائے داخلہ، پلاننگ، ڈویلپمنٹ اور ریفارم احسن اقبال نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی سیکٹر کی بدولت ملک کو علم پر مبنی معیشت کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے، سی پیک کے میگا پراجیکٹ میںاعلیٰ تعلیمی مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پاک۔ یو ایس نالج کوریڈور اور یو۔کے پاکستان نالج گیٹ وے جیسے منصوبوں کا اجراء کیا گیا ہے جبکہ پاک۔

روس نالج پلیٹ فارم کا بھی آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات ہائر ایجوکیشن کمیشن کے زیر اہتمام پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ہائر ایجوکیشن سیکٹر کے پراجیکٹس کے حوالے سے کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے وائس چانسلرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی جو انکی زیر صدارت منعقد ہوا۔

(جاری ہے)

ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ارشد علی، ممبر آپریشن اینڈ پلاننگ ڈاکٹر غلام رضا بھٹی اور35 وائس چانسلرز نے ذاتی طور پر یا ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس میٹنگ میں شمولیت کی۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعات کے وائس چانسلرز کو اعلیٰ تعلیم کے میدان کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کا مستقبل علم پر مبنی معیشت میں رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کا اس بات پر یقین ہے کہ اعلیٰ تعلیمی سیکٹر کی بدولت ملک کو علم پر مبنی معیشت کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے ۔

انہوں نے جامعات کے سربراہان سے کہا کہ وہ اچھے معیارکے پی سی ون تیار کریں تاکہ ان کی منظوری یقینی ہو۔ سال 2018-19 کے لیے 46 پراجیکٹس منظور نہیںہو سکے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اچھی مینجمنٹ ان پراجیکٹس پر عملدرآمد کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ڈویلپمنٹ بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، سال 2012 میں یہ 12 ارب روپے تھا جبکہ اب یہ بجٹ 47 بلین روپے تک پہنچ چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے میگا پراجیکٹ میںاعلیٰ تعلیمی مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پاک۔ یو ایس نالج کوریڈور اور یو۔کے پاکستان نالج گیٹ وے جیسے منصوبوں کا اجراء کیا ہے جبکہ حکومت پاک۔۔روس نالج پلیٹ فارم کا آغاز کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے فاٹا یونیورسٹی، یونیورسٹی آف گوادر اور مختلف اضلاع میں جامعات کے سب کیمپس تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ 2000 اساتذہ کو فیکلٹی ڈویپلمنٹ پروگرام کے تحت ٹریننگ اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کے ذریعے سے ہی ایک محفوظ پاکستان کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ اجلاس کے اختتام پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ارشد علی نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن حکومت پاکستان کی امیدوں پر پورا اترنے کے لیے تندہی سے خدمات سر انجام دے رہا ہے ۔ انہوں نے وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اعلی تعلیم کے فروغ کے لیے ذاتی دلچسپی لی۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پلاننگ کمیشن اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے باہمی تعاون جاری رکھیں گے ۔