تعلیم یافتہ نوجوان فلمی شعبے کو عالمی مارکیٹ تک پہنچا سکتے ہیں،آمنہ الیاس

وقت زیادہ دورنہیں جب پاکستانی فلمیں عالمی مارکیٹ میں پسند کی جائیں گی،ہمارے پاس ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں،انٹرویو

منگل مئی 17:00

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) اداکارہ و ماڈل آمنہ الیاس نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہی فلم کے شعبے کو انٹرنیشنل مارکیٹ تک پہنچا سکتے ہیں۔گزشتہ روز نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے نامور اداکارہ آمنہ الیاس نے کہا کہ دیکھا جائے توپاکستان فلم انڈسٹری کے نئے دور میں نوجوانوں نے اپنی صلاحیتوں کے بل پربہت تیزی کیساتھ اچھی فلمیں پروڈیوس کی ہیں،جس کی بڑی مثال یہ بھی ہے کہ آنجہانی اوم پوری اور نصیر الدین شاہ جیسے ورسٹائل فنکاروں نے پاکستان میں کام کیا اوران کے کام کرنے کی بدولت اوربھی بہت سے فنکاروں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ بھی پاکستانی فلموں میں کام کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اب وہ وقت زیادہ دورنہیں جب پاکستان میں بننے والی فلمیں موضوع او رمیوزک کے ساتھ ساتھ فنکاروں کی عمدہ پرفارمنس کے باعث انٹرنیشنل مارکیٹ میں دیکھی اورپسند کی جائیں گی۔

(جاری ہے)

آمنہ الیاس نے کہا کہ ابھی تویہ شروعات ہے اور آگے اس میں بہتری ہی بہتری دکھائی دے رہی ہے۔لیکن اس بہتری کوکامیابی میں تبدیل کرنے کیلیے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ نوجوانوںکو یہاں کام کے زیادہ مواقعے فراہم کرنا ہونگے۔

ہمارے پاس ٹیلنٹ کی توکوئی کمی نہیں ہے،بس ہمیں ایکٹنگ،ڈائریکشن،رائٹنگ اوردیگرتکنیکی شعبوں میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو استعمال میں لانا ہوگا۔اداکارہ نے کہا کہ ماضی میں بھی اچھا کام ہوتا رہا ہے لیکن آج کے جدید دورکی ترجیحات تبدیل ہوچکی ہیں۔جب تک ہم موجودہ دورکے مطابق فلمسازی نہیں کرینگے،تب تک ہمیں وہ آثاردکھائی نہیں دینگے جس کی ہم توقع رکھتے ہیں۔آمنہ الیاس نے کہا کہ نوجوان فلم میکرزنے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جن موضوعات پرفلمیں بنانے کا عمل شروع کیا ہے وہ آج کے دورمیں بننے والی فلموں کی اولین ڈیمانڈ ہے اسی لیے اب پاکستان فلم انڈسٹری کے بحران میں کمی دکھائی دے رہی ہے اور آنے والے دنوں میں ملک بھر میں فلمسازی کا سلسلہ تیز ہو گا۔